کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 93
((مَوْلَی الْقَوْمِ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ اِنَّا لاَ تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ)) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ[1] (صحیح) حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی مخزوم میں سے ایک شخص کوزکاۃوصول کرنے کے لئے بھیجا۔اس آدمی نے حضرت ابو رافع ؓ سے کہا’’تم بھی میرے ساتھ چلو تاکہ تم کو بھی زکاۃمیں سے کچھ مل جائے ۔‘‘حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا’’اچھا پہلے میں دریافت کر لوں ۔‘‘پھر حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مسئلہ پوچھا آپ نے فرمایا’’قوم کا غلام بھی انہیں میں سے ہوتا ہے ا ور ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔‘‘اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے مسئلہ نمبر:145 مقروض مال دار پر زکاۃواجب نہیں۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنَ خُصَیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ اَنَّہٗ سَأَلَ سُلَیْمَانَ بْنَ یَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ لَہٗ مَالٌ وَ عَلَیْہِ دَیْنٌ مِثْلُہٗ أَ عَلَیْہِ زَکاۃٌ ؟ فَقَالَ : لاَ ۔ رَوَاہُ مَالِکٌ[2] حضرت یزید بن خصیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ’’ایک آدمی مال دار ہے،اور اس پر قرض بھی ہے کیا اس پر زکاۃہے؟‘‘انہوں نے کہا ’’نہیں ۔‘‘اسے مالک نے روایت کیاہے۔ مسئلہ نمبر:146 مال ضمار(جس مال کے واپس ملنے کی امید نہ ہو)کی زکاۃکا حکم۔ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ فِي مَالٍ قَبَضَهُ بَعْضُ الْوُلاَةِ ظُلْمًا، يَأْمُرُ بِرَدِّهِ إِلَى أَهْلِهِ، وَتُؤْخَذُ منه زَكَاه لِمَا مَضَى مِنَ السِّنِينَ، ثُمَّ عَقَّبَ بَعْدَ ذَلِكَ بِكِتَابٍ، لاَّ يُؤْخَذَ مِنْهُ إِلاَّ زَكَاةٌ وَاحِدَةٌ , فَإِنَّهُ كَانَ ضِمَارًا۔ رَوَاہُ مَالِکٌ[3] حضرت ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک مال کے سلسلہ میں جسے بعض حاکموں نے ظلم سے چھین لیا تھا،لکھا کہ ’’مالک کو اس کا مال واپس کریں اور اس میں [1] صحیح سنن ابی داؤد ،للالبانی ، الجزء الاول، رقم الحدیث 1452 [2] مؤطا اماام مالک، کتاب الزکاۃ ، باب الزکاۃ فی الدین [3] مؤطا اماام مالک، کتاب الزکاۃ ، باب الزکاۃ فی الدین