کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 85
اَفْضَلُ ؟ قَالَ ((أَلْمَائُ )) قَالَ :فَحَفَرَ بِئْرًا ، وَ قَالَ : ہٰذِہٖ لِاُمِّ سَعْدٍ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ[1] (حسن) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا’’ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سعد کی ماں فوت ہو گئی پس کون سا صدقہ افضل ہے؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’پانی پلانا ۔‘‘انہوں نے ایک کنواں کھودا اور کہا کہ ’’یہ سعد کی ماں کے (ثواب کے)لئے ہے ۔‘‘اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے مسئلہ نمبر:127 صدقہ کے لئے سفارش کرنے والے کو بھی ثواب ملتا ہے۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ بْنِ اَبِیْ مُوْسٰی عَنْ اَبِیْہِ رضی اللہ عنہ قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا جَائَ ہُ السَّائِلُ اَوْ طُلِبَتْ عَلَیْہِ حَاجَۃٌ قَالَ ((اِشْفَعُوْا تُؤْجَرُوْا وَ یَقْضِی اللّٰہُ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّہٖ صلی اللہ علیہ وسلم مَا شَائَ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[2] حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی سائل آتا یا کوئی آدمی اپنی حاجت بیان کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (لوگوں سے)فرماتے’’تم سفارش کرو تمہیں بھی ثواب ملے گا،اور اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی زبان سے جو چاہے گا دلائے گا ۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے مسئلہ نمبر:128 صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ (( مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِنْ مَالٍ وَ مَا زَادَ اللّٰہُ عَبْدًا بِعَفْوٍ اِلاَّ عِزًّا وَ مَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلاَّ رَفَعَہُ اللّٰہُ )) رَوَاہُ مُسْلِمٌ[3] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا معاف کرنے سے اللہ عزت بڑھاتا ہے اور عاجزی اختیار کرنے پر اللہ بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے ۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے مسئلہ نمبر:129 تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینا افضل ہے۔ مسئلہ نمبر:130 صدقہ دینے میں جلدی کرنا چاہئے۔ [1] صحیح سنن ابی داؤد ، للالبانی ، الجزء الاول ، رقم الحدیث 1474 [2] صحیح بخاری ، کتاب الزکاۃ ، باب التحریص علی الصدقۃ والشفاعۃ فیہا [3] مشکوۃ المصابیح ، کتاب الزکاۃ ، باب فضل الصدقۃ ، الفصل الاول