کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 81
کَانَ یُعْطِیْ عَنْ بَنِیَّ وَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یُعْطِیہَا لِلَّذِیْنَ یَقْبَلُوْنَہَا وَ کَانُوْا یُعْطُوْنَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِیَوْمٍ أَوْ یَوْمَیْنِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[1] حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ گھر کے چھوٹے بڑے تمام افراد کی طرف سے صدقہ فطر دیتے تھے حتی کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی دیتے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو دیتے تھے جو قبول کرتے اور عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے دیتے تھے۔اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [1] کتاب الزکاۃ ، باب صدقۃ الفطر علی الحر والمملوک