کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 67
مَصَارِفُ الــــــــزَّکَاۃِ زکاۃ کے مصارف مسئلہ نمبر:88 زکاۃکے مستحق آٹھ قسم کے لوگ ہیں۔ عَنْ زِیَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِیِّ رضی اللہ عنہ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ، حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ، فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ)) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ[1] حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیااورآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی حضرت زیاد طویل حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیںآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیااور کہا ’’مجھے صدقہ سے کچھ دیجئے۔‘‘نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ’’زکاۃکے بارے میں اللہ تعالیٰ نہ تو کسی نبی کے حکم پر راضی ہوا۔اور نہ ہی کسی غیر کے حکم پر،یہاں تک کہ خود اللہ تعالیٰ نے زکاۃمیں حکم فرمایا اور زکاۃکے آٹھ مصرف بیان کئے پس اگر تو ان آٹھ میں سے ہے تو میں تجھ کو تیرا حق دوں گا۔‘‘(ورنہ نہیں)اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:89 عاملین زکاۃ(زکاۃوصول کرنے والے لوگ)زکاۃسے معاوضہ لے سکتے ہیں خواہ غنی ہی ہوں۔ عَنِ ابْنِ السَّاعِدِیِّ رضی اللہ عنہ قَالَ اسْتَعْمَلَنِیْ عُمَرُ رضی اللہ عنہ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْہَا وَاَدَّیْتُہَا اِلَیْہِ اَمَرَ لِیْ بِعُمَّالَۃٍ فَقُلْتُ اِنَّمَا عَمِلْتُ لِلّٰہِ وَاَجْرِی عَلَی اللّٰہِ قَالَ خُذْ مَا اُعْطِیْتَ فَاِنِّیْ قَدْ عَمِلْتُ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَعَمَّلَنِیْ فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِکَ فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم (( اِذَا اُعْطِیْتَ شَیْئًا مِنْ غَیْرِ اَنْ تَسْاَلَہُ فَکُلْ وَتَصَدَّقْ ))رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ[2] (صحیح) [1] صحیح سنن ابی داؤد کتاب الزکاۃ باب من یعطی من الصدقۃ ؟ وحد الغنی [2] صحیح سنن ابی داؤد للالبانی الجزء الاول رقم الحدیث 1449