کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 47
آدَابُ اَخْذِ الــــــزَّکَاۃِ وَاِیْتَــــائِہَا زکاۃلینے اور دینے کے آداب مسئلہ نمبر:35 زکاۃکا مال لانے والے کے لئے خیر و برکت کی دعا کرنی چاہئے۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی رضی اللہ عنہ قَالَ :کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَتَاہُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِہِمْ قَالَ ((اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ فُلاَنٍ )) فَاَتَاہُ اَبِیْ بِصَدَقَتِہِ فَقَالَ (( اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ آلِ اَبِیْ اَوْفٰی)) ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ[1] حضرت عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب لوگ اپنے صدقات لے کر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے’’اے اللہ! فلاں لوگوں پر اپنی رحمت نازل فرما۔‘‘جب میرا باپ اپنا صدقہ لے کر آیا تو فرمایا’’اے اللہ! آل ابی اوفیٰ پر رحمت نازل فرما۔اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:36 زکاۃدینے والا اپنی مرضی سے زیادہ زکاۃادا کرے تو اس کے لئے بہت زیادہ ثواب ہے۔ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ، فَلَمَّا جَمَعَ لِي مَالَهُ لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهِ إِلَّا ابْنَةَ مَخَاضٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَدِّ ابْنَةَ مَخَاضٍ، فَإِنَّهَا صَدَقَتُكَ، فَقَالَ: ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ، وَلَا ظَهْرَ، وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ فَتِيَّةٌ عَظِيمَةٌ سَمِينَةٌ، فَخُذْهَا، فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُومَرْ بِهِ، وَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ، فَتَعْرِضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ فَافْعَلْ، فَإِنْ قَبِلَهُ مِنْكَ قَبِلْتُهُ، وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَدْتُهُ، قَالَ: فَإِنِّي فَاعِلٌ، فَخَرَجَ مَعِي وَخَرَجَ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتَانِي رَسُولُكَ لِيَأْخُذَ مِنِّي صَدَقَةَ مَالِي، وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا رَسُولُهُ قَطُّ [1] صحیح بخاری کتاب الزکاۃ باب صلاۃ الامام ودعائہ لصاحب الصدقۃ