کتاب: زکوۃ ، عشر اور صدقۃالفطر فضائل احکام و مسائل - صفحہ 79
دے گا، تو ملتے ہی عورت اس میں سے سال کی زکاۃ نکال دے، اگر وہ مقدارِ نصاب کے مطابق یا اس سے زیادہ ہو۔ یہ دَیْنِ مہر، مال ضمار کے حکم میں ہے جس میں ایک سال کی زکاۃ عائد ہوتی ہے۔ 38. مالِ ضمار، تعریف اور حکم مالِ ضمار اس کو کہتے ہیں کہ جو مالک کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کی واپسی یقینی نہ ہو، جیسے کوئی قرض لے کر مکر جائے اور قرض دہندہ کے پاس کوئی لکھی ہوئی تحریر یا گواہ بھی نہ ہو، یا کوئی اس سے چھین کر لے گیا اور اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اسی طرح وہ مال بھی مالِ ضمار میں شمار ہوگا جو فی الحال انسان کی دسترس میں نہ ہو۔ جیسے جنگل بیابان میں کسی نے کوئی خزانہ چھپایا اور جگہ کی اسے شناخت نہ رہی۔ یا کسی کامال سمندر میں ڈوب گیا، یا کسی ظالم و جابر حکمران نے اس کا مال ہتھیالیا۔ ان تمام صورتوں میں مالک اپنے مال سے محروم ہوگیا ہے، لیکن یہ محرومی مکمل محرومی نہیں ہے، بلکہ ان صورتوں میں امید کی کرن بھی موجود ہے اور کسی وقت مال کے مل جانے کا امکان ہے۔ اس لیے جب تک یہ مال مالک کو واپس نہ ملے،اس کے ذمے اس کی زکاۃ کی ادائیگی ضروری نہیں ، البتہ اگر مل جائے چاہے سالہا سال کے بعد ملے، تو ملتے ہی ایک سال کی زکاۃ ادا کردی جائے، تمام سالوں کی ادائیگی ضروری نہیں ۔ اسی طرح ڈوبا ہوا قرض ہے، جب بھی وہ ملے، چاہے کئی سال کے بعد ہی ملے، اس میں سے صرف ایک سال کی زکاۃ ادا کر دی جائے۔ اس کی بنیاد حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا حسب ذیل فرمان ہے، جو انہوں نے یہ اطلاع پاکر جاری فرمایا تھا کہ بعض اہل کارانِ حکومت نے بعض لوگوں کا مال ظلماً اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ چنانچہ حضرت