کتاب: زکوۃ ، عشر اور صدقۃالفطر فضائل احکام و مسائل - صفحہ 7
اسلوبِ بیان سے واضح ہے کہ دین میں جتنی اہمیت نماز کی ہے، اتنی ہی اہمیت زکاۃ کی ہے۔ ان دونوں میں بایں طور تفریق کرنے والا کہ ایک پر عمل کرے اور دوسرے پر نہ کرے، سرے سے ان کا عامل نہیں سمجھا جائے گا۔ بلکہ جس طرح ترک نماز انسان کو کفر تک پہنچادیتا ہے، اسی طرح زکاۃ بھی شریعت میں اتنا اہم مقام رکھتی ہے کہ اس کی ادائیگی سے انکار، اعراض اور فرار مسلمانی کے زمرے سے نکال دینے کا باعث بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں ان لوگوں سے قتال کیا، جنہوں نے نماز اور زکاۃ میں تفریق کرکے زکاۃ کی ادائیگی سے انکار کر دیا تھا اور فرمایا: (( وَاللّٰہِ! لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلاۃِ والزَّکاۃِ)) ’’واللہ! میں ان لوگوں کے خلاف ضرور قتال کروں گا جنہوں نے نمازاور زکاۃ کے درمیان تفریق کی ہے۔‘‘[1] بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے شروع میں آپ کی اس رائے سے موافقت نہ کی اور آپ کو لچک دار رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا، لیکن خلیفۂ رسول نے اسے دین میں مداہنت اور نرمی کہہ کر رد کردیا اور ان پر مسئلے کی اہمیت واضح کی۔ تا آنکہ وہ بھی موقف صدیق رضی اللہ عنہ کے قائل و معترف ہوگئے، چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ((فَوَ اللّٰہِ! مَا ہُوَ إِلَّا أَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہ [1] صحیح البخاري، الزکاۃ، باب: 1، حدیث: 1400، وصحیح مسلم، الإیمان، باب الأمر بقتال الناس حتی یقولوا لا إلہ إلا اللّٰہ، حدیث: 20۔