کتاب: زکوۃ ، عشر اور صدقۃالفطر فضائل احکام و مسائل - صفحہ 69
قاسم رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی دونوں یتیم تھے، ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں پرورش پارہے تھے، یعنی وہ ہماری ولیہ تھیں ، وہ ہمارے مال میں سے زکاۃ ادا کرتی تھیں ۔[1] شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : (( وتجب الزکاۃ فی مال الیتامیٰ عند مالک واللیث والشافعی واحمد و ابی ثور، وھو مروی عن عمروعائشۃ و علی وابن عمروجابر، رضی اللّٰه عنھم، قال عمر: اتجروا فی اموال الیتامیٰ، لاتأکلھا الزکاۃ، وقالتہ عائشۃ ایضا، وروی ذلک عن الحسن بن علی وھو قول عطاء وجابر بن زید ومجاہد وابن سیرین)) ’’امام مالک، لیث، امام شافعی، امام احمد اور ابو ثور کے نزدیک یتیموں کے مال میں زکاۃ واجب ہے اور یہی حضرت عمر، حضرت عائشہ، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت جابر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ حضرت عمر کا فرمان ہے: ’’یتیموں کے مالوں کو تجارت میں لگاؤ، ایسا نہ ہو کہ زکاۃ ان کے مال کو کھا جائے۔‘‘ یہی قول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی ہے۔ اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور یہی قول امام عطاء، جابر بن زید، مجاہد اور امام ابن سیرین کا ہے۔‘‘[2] مولانا عبد الرحمن مبارک پوری لکھتے ہیں کہ کسی بھی صحابی سے صحیح سند کے ساتھ، بچے کے مال میں سے عدمِ زکاۃ کا قول ثابت نہیں : [1] موطأ امام مالک:1/ 251 [2] مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام: 18,17/25۔