کتاب: زکوۃ ، عشر اور صدقۃالفطر فضائل احکام و مسائل - صفحہ 64
بغیرملک کی خاص خدمت کے رقمیں اڑاتے اور بلامحنت منافع کماتے ہیں جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کی ذرائع آمدنی پر زد پڑتی ہے اور ملک بہت سازیربار ہوجاتاہے۔ ملک کی تباہی کا دوسرا سبب کاشت کاروں ، تاجروں اور اہل حرفت پر بھاری ٹیکس لگانا اور اس بارے میں ان پر سختی کرنا ہے۔ یہاں تک کہ جوبے چارے حکومت کی اطاعت کرتے اور اس کے احکام مانتے ہیں وہ تباہ ہوجاتے ہیں اور جو سرکش اور نادہندہ صاحب اثر و رسوخ ہیں اس سے بچاؤ کی صورتیں پیدا کرلیتے ہیں اور زیادہ سرکش ہوکر گورنمنٹ کے ٹیکس ادا نہیں کرتے حالانکہ ملک کی تعمیر کم ٹیکس اوربقدرِ ضرورت محافظین کے قیام ہی سے ممکن ہے۔ اس کے بعد شاہ صاحب لکھتے ہیں : اہل زمانہ کو یہ نکتہ یاد رکھنا چاہیے۔ شاہ صاحب کی اصل عربی عبارت یہ ہے: غَالِبُ سَبَبِ خَرَابِ الْبُلْدَانِ فِي ہٰذَا الزَّمَانِ شَیْئَانِ أَحَدُہُمَا تَضْیِیقُہُمْ عَلٰی بَیْتِ الْمَالِ بَأَنْ یَّعْتَادُوا التَّکَسُّبَ بَالْأَخْذِ مِنْہُ… وَ یَکُونُ الْعُمْدَۃُ عِنْدَہُمْ ہُوَ التَّکَسُّبُ دُونَ الْقِیَامِ بِالْمَصْلَحَۃِ فَیَدْخُلُ قَوْمٌ عَلٰی قَوْمٍ فَیُنْغِضُونَ عَلَیْہِمْ وَ یَصِیرُونَ کَلًّا عَلَی الْمَدِینَۃِ وَالثَّانِيْ ضَرْبُ الضَّرَائِبِ الثَّقِیلَۃِ عَلَی الزُّرَّاعِ وَالتُّجَّارِ وَالْمُتَحَرِّفَۃِ وَالتَّشْدِیدُ عَلَیْہِمْ حَتَّی یُفْضِيَ إِلٰی إِجْحَافِ الْمُطَاوِعِینَ وَاسْتِیصَالِہِمْ وَ إِلٰی تَمَنُّعِ أُولِي بَأْسٍ شَدِیدٍ وَّبَغْیِہِمْ وَإِنَّمَا تَصْلُحُ الْمَدِینَۃُ بِالْجِبَایَۃِ الْیَسِیرَۃِ وَ إِقَامَۃِ الْحَفَظَۃِ بِقَدْرِ