کتاب: زکوۃ ، عشر اور صدقۃالفطر فضائل احکام و مسائل - صفحہ 50
تعاون کیا جائے، دست کار کو آلات و مشینری خرید کردی جائے اور خطرناک مریض کے علاج معالجے کا انتظام کیا جائے تاکہ ان کی ضرورتیں اس طرح پوری ہوجائیں کہ پھر ان کو مانگنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ اس کے لیے ظاہر بات ہے کہ تفتیش و تحقیق ضروری ہے۔ اگر زکاۃ کی تحصیل و تقسیم اجتماعی طور پر ہو، تو تفتیش و تحقیق کا کام چنداں مشکل نہیں ۔ کیونکہ اللہ نے زکاۃ کا ایک مصرف، زکاۃ وصول کرنے والوں کو بھی قرار دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کرنے اور اسے تقسیم کرنے کے لیے جو ادارہ بنے گا اور اس میں جتنے افراد کام کرنے والے ہوں گے ان سب کے اخراجات وصول شدہ زکاۃ سے ادا کرنے جائز ہیں ۔ جب یہ سہولت موجود ہے تو حکومت بھی کسی اضافی خرچ کے بغیر، زکاۃ کی وصولی، اس کا حساب کتاب رکھنے، اس کی تقسیم اور تفتیش و تحقیق وغیرہ امور کے لیے ضروری افراد مقرر کر سکتی ہے اور انہیں زکاۃ کی مد سے تنخواہیں وغیرہ دے سکتی ہے۔ حکومت اگر یہ کام نہ کرے (جیسا کہ اس وقت ہے) تو دینی ادارے یہ کام بآسانی کرسکتے ہیں ۔ جیسے بعض خاندان اور برادریوں میں فلاح وبہبود کے اس قسم کے ادارے موجود ہیں اور وہ مذکورہ نہج پر اپنے خاندان اور برادری کی حد تک نہایت مفید کام کررہے ہیں ۔ اگر دینی ادارے بھی اپنے اپنے حلقے کی حد تک زکاۃ کی تحصیل و تقسیم کا نظام قائم کر لیں ، تو زکاۃ کے وہ مقاصد بہتر طریقے سے حاصل ہوسکتے ہیں جن کی وضاحت مذکورہ سطور میں کی گئی ہے۔ اس نظام کے تحت جن کو یکمشت رقم دے کر اپنے پیروں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے، ان سے اس طرح تعاون کیا جائے کہ جو یتیم ہیں ، ان کی تربیت وکفالت کا، بیواؤں کے