کتاب: زکوۃ ، عشر اور صدقۃالفطر فضائل احکام و مسائل - صفحہ 217
میت نے اگر کوئی وصیت کی ہو تو وہ صدقۂ جاریہ ہوسکتی ہے یا اس نے کوئی چیز وقف کردی ہو اور اس کی موت کے بعد اس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہو تو وہ صدقۂ جاریہ ہے۔ اسی طرح علم بھی اس کی کمائی ہے، لہٰذا علم نافع بھی صدقۂ جاریہ ہے۔ اسی طرح جب اس کی اولاد اس کے لیے دعا کرے، تو اس کا بھی اسے فائدہ ہوتا ہے۔ اگر ہم سے پوچھا جائے کہ اگر میں اپنے والد کی طرف سے دو رکعت نماز پڑھوں تو یہ افضل ہے یا اپنی طرف سے دو رکعت نماز پڑھ کر اپنے والد کے لیے دعا کروں تو یہ افضل ہے؟ تو ہم کہیں گے کہ افضل یہ ہے کہ اپنی طرف سے دو رکعت نماز پڑھو اور اپنے والد کے لیے دعا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا:
((أَوْ وَلَدٍ صَالَحِ یَدْعُو لَہُ))
’’یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔‘‘[1]
آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یا نیک اولاد جو اس کی طرف سے نماز پڑھے یا کوئی دوسرانیک کام کرے۔
[1] صحیح مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان من الثوب بعد وفاتہ، حدیث: 4223، (14)1631۔