کتاب: زکوۃ ، عشر اور صدقۃالفطر فضائل احکام و مسائل - صفحہ 216
’’بے شک اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق عطا فرمادیا ہے، لہٰذا وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔‘‘[1]
صدقۂ جاریہ وہ ہے جسے انسان خود اپنی طرف سے دے
سوال : کیا صدقۂ جاریہ وہ ہے جسے انسان نے خود اپنی زندگی میں کیا ہو، یا صدقۂ جاریہ وہ بھی ہے، جو اس کی وفات کے بعد اس کی طرف سے اس کے وارث کریں ؟
جواب : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان:
((إِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ))
’’سوائے صدقۂ جاریہ کے۔‘‘[2]
سے بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ صدقۂ جاریہ وہ ہے جسے انسان خود اپنی طرف سے کرے اور وہ صدقۂ جاریہ نہیں ہے، جو اس کے بعد اس کی طرف سے اس کی اولاد کرے کیونکہ اولاد کے حوالے سے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُو لَہُ))
’’نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔‘‘[3]
[1] سنن أبي داود، الوصایا، باب ماجاء في الوصیۃ للوارث، حدیث: 2870، و جامع الترمذي، الوصایا، باب ماجاء لا وصیۃ لوارث، حدیث: 2120۔
[2] صحیح مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان من الثوب بعد وفاتہ، حدیث: 4223، (14)1631۔
[3] صحیح مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان من الثوب بعد وفاتہ، حدیث: 4223، (14)1631۔