کتاب: زکوۃ ، عشر اور صدقۃالفطر فضائل احکام و مسائل - صفحہ 187
اس حدیث میں صدقہ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو عام ہے، اس میں نفلی صدقہ اور زکاۃ (صدقۂ واجبہ) دونوں شامل ہیں اور جب حضرت زینب نے کوئی وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے سوال صدقۂ واجبہ کے متعلق کیا تھا یا نفلی صدقے کے متعلق۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم ے بھی تعیین نہیں فرمائی، اس لیے یہاں صدقے کا لفظ دونوں قسموں کو شامل ہوگا۔ علاوہ ازیں ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں ، حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے حضرت بلال کے ذریعے سے بچھوایا: ((أَیُجْزِیُٔ عَنِّي أَنْ اُنْفِقَ عَلٰی زَوْجِي وَ أَیْتَامٍ لِي فِي حَجْرِيْ؟)) ’’اگر میں اپنے خاوند اور میری گود میں پرورش پانے والے یتیم بچوں پر (اپنے صدقے کی رقم) خرچ کروں تو کیا یہ مجھے سے کفایت کر جائے گا۔؟‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ((نَعَمْ، وَلَہَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَۃِ وَ أَجْرُ الصَّدَقَۃِ)) ’’ہاں ،بلکہ اس صورت میں دگنا اجر ہے، ایک قرابت داری (کا حق ادا کرنے) کا اور دوسرا صدقہ کرنے کا۔‘‘[1] اس دوسری روایت کے ان الفاظ ’’مجھے کفایت کر جائے گا‘‘ سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت زینب کا سوال صدقۂ واجبہ (زکاۃ) کے بارے میں تھا، اس لیے انہوں نے پوچھا: اس طرح میری زکاۃ ادا ہوجائے گی؟ مسئلہ عام صدقے کا ہوتا تو ان کو یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ میرا یہ خرچ کرنا کفایت کرجائے گا؟ یعنی زکاۃ ادا ہوجائے گی؟ [1] صحیح البخاري، حدیث: 1466۔