کتاب: زکوۃ ، عشر اور صدقۃالفطر فضائل احکام و مسائل - صفحہ 153
الْأَحَادیثُ لَیْسَتْ مُتَخَالِفَۃً عِنْدَنَا لَأَنَّ النَّاسَ عَلٰی مَنَازِلِ شَتَّی وَ لِکُلِّ وَاحِدٍ کَسْبٌ لَا یُمْکِنُ أَنْ یَّتَحَوَّلَ عَنْہُ…، فَمَنْ کَانَ کَاسِبًا بِالْحِرْفَۃِ فَہُوَ مَعْذُورٌ حَتَّی یَجِدَ اٰلَاتِ الْحِرْفَۃِ، وَ مَنْ کَانَ زَارِعًا حَتَّی یَجِدَ اٰلَاتِ الزَّرْعِ، وَ مَنْ کَانَ تَاجِرًا حَتَّی یَجِدَ الْبِضَاعَۃَ وَ مَنْ کَانَ عَلَی الْجِہَادِ مُسْتَرْزِقًا بِمَا یَرُوحُ وَ یَغْدُو مِنَ الْغَنَائِمِ، کَمَا کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ، فَالضَّابِطُ فِیہِ أُوقِیَۃٌ أَوْ خَمْسُونَ دِرْہَمًا، وَ مَنْ کَانَ کَاسِبًا بِحَمْلِ الْأَثْقَالِ فِي الْأَسْوَاقِ أَوِاحْتِطَابِ الْحُطَبِ وَ بَیْعِہِ وَ أَمْثَالِ ذٰلِکَ، فَالضَّابِطُ فِیہِ مَا یُغَدِّیہِ أَوْ یُعَشِّیْہِ)) ’’اس تونگری کے بارے میں جو سوال سے مانع ہے، مختلف اندازے احادیث میں بیان ہوئے ہیں ، (مثلاً) وہ ایک اوقیہ (چالیس درہم) ہیں یا پچاس درہم ہیں اور یہ بھی آیا ہے کہ جس کے پاس صبح یا شام کی خوراک موجود ہو (یہ افراد زکاۃ کے مستحق نہیں ہیں ) ہمارے نزدیک یہ احادیث ایک دوسرے کی مخالف نہیں ہیں ، اس لیے کہ لوگ مختلف مراتب کے حامل ہوتے ہیں اور ہر ایک کا ذریعۂ کمائی ایسا ہوتا ہے کہ اس سے پھرنا (اسے بدلنا) اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ پس جو شخص دست کاری کے ذریعے سے کمائی کرتا ہے تو وہ اس وقت تک معذور ہے جب تک اسے دست کاری کے اوزار دستیاب نہ ہوں ۔ جو کاشت کار ہے وہ (اس وقت تک معذور ہے) جب تک اسے کاشت کاری کے آلات میسر نہ ہوں ۔ تاجر ہے تو اس کے لیے سامان تجارت ضروری ہے