کتاب: زکوۃ ، عشر اور صدقۃالفطر فضائل احکام و مسائل - صفحہ 133
سے کی جاسکتی ہے، بلکہ صاحب حیثیت ہونے کے باوجود ایسے لوگوں پر زکاۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔ احناف نے اس مد کو ساقط قرار دیا ہے، لیکن یہ مسلک صحیح نہیں ۔ قیامت تک یہ مصرف بھی دیگر مصارفِ زکاۃ کی طرح قائم رہے گا اور بوقتِ ضرورت اور حسبِ اقتضاء مؤلفۃ القلوب کی مذکورہ اقسام کو زکاۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔ عیسائی مشنریوں کی تبلیغی مہم کو ناکام بنانے کے لیے زکاۃ کی رقم کا استعمال عیسائی حکومتیں عیسائی مشنریوں کی بھر پور امداد کرتی ہیں ، جس کے بل پر عیسائی مشنریوں نے اسلامی ممالک میں بالعموم اور افریقی ممالک میں بالخصوص عیسائیت کی تبلیغ کے جال پھیلا رکھے ہیں ۔ ان مشنری اداروں کے، ایسے لوگ بالخصوص ہدف ہوتے ہیں جو مختلف مصائب کا شکار اور فقر و فاقہ میں مبتلا ہوں ۔انسانی ہمدردی کے عنوان سے یہ عیسائیت کے پرچار ان کے قلوب میں اپنی جگہ بناتے ہیں اور پھر انہیں عیسائیت کے فتراک کانخچیر بنا لیتے ہیں ۔ لیکن افسوس ہے کہ اسلامی حکومتیں ارتداد کی اس مہم سے بالکل بے خبر اور اسلامی تبلیغ کے فریضے سے یکسر غافل ہیں ۔ ایسے حالات میں مؤلفۃ القلوب کی مَدّ سے ایسے لوگوں کی امداد کی جاسکتی ہے اور کی جانی چاہیے جو ان مشنری اداروں کی کوششوں کی وجہ سے عیسائیت کے قریب آچکے ہوں ، ان کی مالی امداد کرکے عیسائیت کی محبت ان کے دلوں سے نکالی جائے تاکہ وہ ارتداد کا راستہ اختیار نہ کریں ۔ اسی طرح ایسے غریب عیسائیوں کی امداد بھی اس مد سے کی جاسکتی ہے اور کی جانی چاہیے کہ جو مختلف مصائب و آلام میں گھرے ہوئے ہوں اوران کی مالی امداد سے ان کے اسلام کی طرف مائل ہونے کی امید ہو۔