کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 9
اخلاص کا مفہوم ’ اخلاص ‘ کی اہمیت وضرورت پر بات کرنے سے پہلے یہ جان لیں کہ ’ اخلاص ‘ کسے کہتے ہیں ؟اور اس کا معنی ومفہوم کیا ہے ؟ لفظ ’ اخلاص ‘ کا معنی ہے چھانٹنا اور ملاوٹ سے پاک کرنا۔ اور شرعی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی عبادت کے ذریعے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا تقرب حاصل کرنے کی نیت کرے اور اس میں کسی اور دنیاوی مقصد کی ملاوٹ نہ کرے۔دنیاوی مقاصد کئی ہو سکتے ہیں۔مثلا : ٭ کسی سے اپنی تعریف سننے کی یا ملامت ومذمت سے بچنے کی خواہش ہو۔ ٭ یا کسی کے دل میں اپنے لئے محبت کے جذبات پیدا کرنا مقصود ہو۔ ٭ یا جاہ ومنصب اور مال ودولت کو حاصل کرنے کا ارادہ ہو۔ یعنی عبادت اور عمل صالح کیلئے اصل محرک بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہو، اس کے حکم پر عمل کرکے اس کا قرب اور اس کی رضامندی کو حاصل کرنا ہو۔اس کی مغفرت اور اجر وثواب کی طلب ہو اور اس کے عذاب کا خوف اور ڈر ہو۔اور بندے کے دل میں دنیاوی اغراض ومقاصد میں سے کچھ بھی نہ ہو۔ حافظ ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ ’ اخلاص ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں : ’’ بندہ جب عمل کرے تو اس کے دل میں یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے، اس پر مُطّلع اور اس کے قریب ہے۔لہٰذا جب بندہ اپنے عمل میں اِس چیز کا استحضار کرتا ہے اور پھر اسی کیفیت کے ساتھ وہ اپنا عمل مکمل کرتا ہے تو وہ مخلص ہوتا ہے۔کیونکہ اِس کیفیت کا استحضار اسے غیر اللہ کی طرف متوجہ ہونے یا اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کا قصد کرنے سے روکتا ہے۔‘‘[1] اور امام ابو عثمان سعید بن اسماعیل نیسابوری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : اخلاص چار چیزوں کا نام ہے: پہلی یہ کہ آپ اپنے قول وفعل کے ذریعے اپنے دل میں ارادہ کریں کہ آپ محض اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہی چاہتے ہیں اور اس کی ناراضگی سے بچنا چاہتے ہیں۔اور عمل کے دوران آپ کی کیفیت یہ ہو کہ جیسے آپ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں اور وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔یہ اس لئے کہ تاکہ آپ کے دل سے ریا چلا جائے۔ [1] جامع العلوم والحکم :129/1