کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 86
اللہ تعالی کافرمان ہے : ﴿ وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤمِنُوْنَ ﴾ [1] ’’ اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔لہٰذا میں اسے ان لوگوں کیلئے لکھ دوں گا جو تقوی کی راہ اختیار کرتے ہیں، زکاۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔‘‘ 12۔موت کے وقت جنت کی خوشخبری اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَ ٭ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ لَھُمْ فِیْھَا مَا یَشَآئُ وْنَ کَذٰلِکَ یَجْزِی اللّٰہُ الْمُتَّقِیْنَ ٭ الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیْنَ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْکُمُ ادْخُلُوْا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴾ [2] ’’ اور متقین کا کیا ہی اچھا گھر ہے ! دائمی باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے۔ان میں نہریں جاری ہوں گی اور جو کچھ بھی وہ چاہیں گے انھیں ملے گا۔اللہ تعالی متقین کو اسی طرح بدلہ دیتا ہے۔جو پاک سیرت ہوتے ہیں، فرشتے ان کی روح قبض کرنے آتے ہیں تو کہتے ہیں : تم پر سلام ہو، جو اچھے عمل تم کرتے رہے ہو اس کے سبب جنت میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ محترم حضرات ! جہاں تک آخرت کا تعلق ہے تو وہ تو ہے ہی صرف متقین کیلئے۔جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿ وَالْاٰخِرَۃُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ ﴾[3] ’’ اور آخرت تو آپ کے رب کے ہاں صرف متقین کیلئے ہے۔‘‘ اسی طرح اس کا فرمان ہے : ﴿ تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا وَ الْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ﴾ [4] ’’یہ دار آخرت تو ہم ان لوگوں کیلئے مخصوص کردیتے ہیں جو زمین میں بڑائی یا فساد نہیں چاہتے۔اور ( بہتر ) انجام تو متقین ہی کیلئے ہے۔‘‘ وہ بہتر انجام کیا ہوگا ؟ اللہ تعالی متقین کو جہنم سے نجات دے کر جنت میں داخل کردیں گے۔ اللہ تعالی کافرمان ہے : ﴿ وَ اِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ٭ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ [1] الأعراف7 :156 [2] النحل16 :32-30 [3] الزخرف43 :35 [4] القصص28:83