کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 60
’’مجھ سے پہلے ہر امت میں اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اس کے کچھ نہ کچھ انصار ومدد گار اور ساتھی ضرور ہوتے تھے۔جو اس کے طرز عمل کو اختیار کرتے اور اس کے حکم پر عمل کرتے۔( اسی طرح میری امت میں بھی میرے انصار واصحاب موجود ہیں ) پھر ان کے بعد ایسے نالائق لوگ آئیں گے کہ جو وہ بات کہیں گے جس پر خود عمل نہیں کریں گے اور وہ کام کریں گے جس کا انھیں حکم نہیں دیا جاتا۔لہٰذا جو شخص ان سے اپنے ہاتھ کے ساتھ جہاد کرے گا وہ مومن ہوگا۔اور جو ان سے اپنی زبان کے ساتھ جہاد کرے گا وہ بھی مومن ہوگا۔اور جو ان سے اپنے دل کے ساتھ جہاد کرے گا وہ بھی مومن ہوگا۔اور اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان باقی نہیں بچتا۔‘‘ ان دونوں حدیثوں میں انکار منکر کے تین مراتب ذکر کئے گئے ہیں : پہلا مرتبہ : ہاتھ کی طاقت کے ساتھ منکر سے منع کرنا اور یہ وہ شخص کر سکتا ہے جس کو اس کا اختیار حاصل ہو۔مثلا حاکم، قاضی، پولیس اور دیگر ذمہ دار ادارے۔اسی طرح گھر کے اندر گھر کا ذمہ دار، کسی کمپنی میں اس کا ذمہ دار وغیرہ جو اپنے ماتحت افراد کو زورِ بازو کے ساتھ برائی سے منع کر سکتے ہیں۔ قرآن وحدیث سے اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔مثلا 1۔ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کے بتوں کو پاش پاش کردیا۔اور انھوں نے اپنی قوم سے کہا : ﴿وَ تَاللّٰہِ لَاَکِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ ﴾[1] ’’ اور اللہ کی قسم ! جب تم لوگ پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمھارے بتوں کے خلاف کاروائی کروں گا۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے وہ کر دکھایا جو کہا تھا : ﴿ فَجَعَلَھُمْ جُذٰذًا اِلَّا کَبِیْرًا لَّھُمْ لَعَلَّھُمْ اِلَیْہِ یَرْجِعُوْنَ ﴾[2] ’’ پھر انھوں نے ان کے بڑے بت کو چھوڑ کر باقی بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے، تاکہ وہ لوگ اس کے پاس واپس جا سکیں۔‘‘ 2۔حضرت موسی علیہ السلام نے سامری کے بنائے ہوئے معبود کے بارے میں کہا تھا : ﴿ وَانْظُرْ اِلٰٓی اِلٰھِکَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْہِ عَاکِفًا لَنُحَرِّقَنَّہٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّہٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا ﴾[3] ’’ اور اپنے معبود کو دیکھو جس کی عبادت پر تم جمے رہے تھے، ہم اسے یقینا جلا دیں گے، پھر اس کی راکھ [1] الأنبیاء21 :57 [2] الأنبیاء21 :58 [3] طہ20 :97