کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 49
٭ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے سے سنتیں زندہ اوربدعات ختم ہوتی ہیں۔اور اچھے لوگوں کو تقویت ملتی ہے اوربرے لوگ کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ٭ اور اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردیا جائے تو اہل ایمان کمزور پڑ جاتے ہیں اور اہل ِ شر (مجرم پیشہ لوگ ) طاقتور ہو جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے معاشرے میں بہت زیادہ خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ٭ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ویسے تو فرمان ِنبوی ( کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ) کی بناء پر ہر شخص کی ذمہ داری ہے، تاہم ہر معاشرے میں اہل ِ علم اور اربابِ دانش کی ایک ایسی جماعت کا ہونا ضروری ہے جو معروف ومنکر کا علم رکھتے ہوں اور اس کی شروط وغیرہ سے آگاہ ہوں، یہ اہل ِ علم لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دیں، اچھے کاموں کی تلقین کریں اور برے کاموں سے روکیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴾[1] ’’ اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو خیر کی طرف دعوت دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔اور ایسے ہی لوگ کامیابی پانے والے ہیں۔‘‘ اِس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ جو لوگ دعوت الی الخیر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے رہیں تو ایسے ہی لوگ دنیا وآخرت میں کامیاب ہیں۔اللّٰهم اجعلنا منہم ٭ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر امت محمدیہ کے بہترین امت ہونے کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤمِنُوْنَ بِاللّٰہِ ﴾[2] ’’ تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو۔اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ لہٰذا یہ امت جس وجہ سے بہترین امت ہے، اس کا اسے اہتمام کرنا چاہئے۔اور وہ ہے : امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ایمان باللہ۔ ٭ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ایک جماعت کی بھی تعریف فرمائی جو نیکی کا حکم دیتی تھی اور برائی سے منع کرتی تھی۔اور اس جماعت کے لوگوں کو صالحین میں سے قرار دیا۔اس کا فرمان ہے : [1] آل عمران3 :104 [2] آل عمران3 :110