کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 467
کریں۔اور اِس دور میں ’وقت ‘ کو برباد کرنے والی جتنی چیزیں ہیں ان سے اپنے بچوں کو سختی سے بچنے کی تلقین کیا کریں۔اور یہ بات یاد رکھیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ذمہ دار کے متعلق آگاہ فرمایا ہے کہ اس سے قیامت کے روز اس کی ذمہ داری کے متعلق سوال کیا جائے گا۔لہذا اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔اور نہ خود اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کیا کریں اور نہ ہی گھر والوں اور بچوں کو اس کی اجازت دیا کریں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فارغ اوقات سے مستفید ہونے کی توفیق دے۔اور ان اوقات کو ہمارے حق میں نفع بخش بنائے۔اور قیامت کے روز انھیں ہمارے خلاف حجت نہ بنائے۔ دوسرا خطبہ محترم بھائیو اور بزرگو ! اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿ فَاِِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ٭ وَاِِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ﴾[1] ’’ جب آپ فارغ ہوں تو ( عبادت کی ) مشقت میں لگ جائیں۔اور اپنے رب کی طرف راغب ہوں۔‘‘ ان آیات میں اللہ تعالی نے اگرچہ خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا ہے، مگر یہ ہیں ہم سب کیلئے۔اور ان کا مفہوم یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص، مرد ہو یا عورت، جب کبھی فارغ ہو تو وہ ان کاموں میں لگ جائے جو اللہ تعالی کو راضی کرنے والے ہوں۔اور ان کاموں سے بچے جو اسے ناراض کرنے والے ہوں۔ آئیے اب ہم کچھ عملی چیزیں ذکر کرتے ہیں۔اور آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ کم وقت میں آپ بفضلہ تعالی بہت زیادہ نیکیاں کما سکتے ہیں۔ہم جن اعمال کا تذکرہ کریں گے وہ ایسے اعمال ہیں کہ جنھیں ایک سے دو منٹ میں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان اعمال کا تذکرہ کرنے سے پہلے ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ اسلام کی اہم ترین عبادات ہمیں اِس بات کی طرف دعوت دیتی ہیں کہ ہم اپنے اوقات کو منظم ومرتب کریں اور ایک ترتیب کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، خواہ وہ اللہ کے فرائض ہوں یا بندوں کے حقوق ہوں۔ چنانچہ آپ پانچ نمازوں کو دیکھ لیں، جو دین کا ستون ہیں، اللہ تعالی نے ان نمازوں کے اوقات مقرر کر دئیے ہیں۔اور ہر نماز کو اس کے مقررہ وقت میں ادا کرنا فرض قرار دیا ہے۔اور اگر ہم ’وقت ‘ کا حساب کرنا چاہیں تو چوبیس گھنٹوں میں سے صرف ایک گھنٹہ پانچوں نمازیں ادا کرنے پرصرف ہوتا ہے۔گویا چوبیس گھنٹوں میں سے [1] الانشراح94 :7۔8