کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 454
دوسرا خطبہ محترم حضرات ! آج کے موضوع کو مکمل کرتے ہوئے آخر میں یہ بھی جان لیجئے کہ جو لوگ ان مجالس میں بیٹھتے ہیں جن میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے، جن میں اللہ کے دین کی گفتگو ہوتی ہے، اللہ تعالی ان کے گناہوں کو بھی معاف کردیتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (( إِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً یَطُوْفُوْنَ فِی الطُّرُقِ،یَلْتَمِسُوْنَ أَہْلَ الذِّکْرِ، فَإِذَا وَجَدُوْا قَوْمًا یَذْکُرُونَ اللّٰہَ تَنَادَوْا : ہَلُمُّوْا إِلٰی حَاجَتِکُمْ ) قَالَ : ( فَیَحُفُّوْنَہُمْ بِأَجْنِحَتِہِمْ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا )) ’’ بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ کے ایسے فرشتے ہیں جو راستوں میں چلتے پھرتے رہتے ہیں، ان کا اور کوئی کام نہیں سوائے اس کے کہ وہ اہل ِ ذکر کی تلاش میں رہتے ہیں۔لہذا جب وہ ایسے لوگوں کو پالیتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو پکار کر کہتے ہیں : آ جاؤ تم جس چیز کے متلاشی تھے وہ یہاں ہے۔پھر وہ بھی اہل الذکر کے ساتھ بیٹھ کر انھیں اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں۔( اور ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ) اس مجلس سے آسمانِ دنیا تک سارے فرشتے ہی فرشتے ہوتے ہیں۔‘‘ ’’ پھر (جب وہ آسمان کی طرف چلے جاتے ہیں تو ) اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان کے حال کو زیادہ جانتا ہے : میرے بندے کیا کہہ رہے ہیں ؟ وہ جواب دیتے ہیں : وہ تیری تسبیح، تیری بڑائی، تیری تعریف اور تیری بزرگی بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ فرشتے کہتے ہیں : نہیں، انھوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر انھوں نے مجھے دیکھا ہوتا تو پھر ان کی حالت کیا ہوتی ؟ فرشتے کہتے ہیں : اگر انھوں نے تجھے دیکھا ہوتا تو وہ یقینا تیری عبادت اور زیادہ کرتے۔اور تیری بزرگی، تیری تعریف اور تیری تسبیح اور زیادہ بیان کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ مجھ سے کس چیز کا سوال کرتے ہیں ؟ فرشتے کہتے ہیں : وہ تجھ سے تیری جنت کا سوال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انھوں نے میری جنت کو دیکھا ہے ؟