کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 449
9۔امام کے پیچھے قومہ میں ( اللّٰهُم ربنا لک الحمد ) کہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ((إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ فَقُولُوا : اللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ، فَإِنَّہٗ مَن وَّافَقَ قَولُہٗ قَولَ الْمَلَائِکَۃِ، غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ)) [1] ’’ جب امام کہے : سمع اللہ لمن حمدہ تو تم کہو : اللہم ربنا لک الحمد، کیونکہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے سے موافقت کر جاتا ہے تو اس کے پچھلے تمام گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔‘‘ 10۔دن میں سو مرتبہ ( سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ) پڑھنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : (( مَنْ قَالَ سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ، فِیْ یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ،حُطَّتْ عَنْہُ خَطَایَاہُ وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ)) [2] ’’ جو شخص دن میں ایک سو مرتبہ ( سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ) پڑھے تواس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں۔‘‘ 11۔دن میں سو مرتبہ(( لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ )) پڑھنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھے : (( لَا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ )) تو یہ اس کیلئے دس گردنوں کو آزاد کرنے کے برابر ہے، اس کیلئے سو نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے سو گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔اور یہ دعا شام ہونے تک اس کیلئے شیطان کے سامنے قلعہ بنی رہتی ہے۔‘‘ [3] 12۔تسبیحات پڑھنا حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((مَا عَلَی الْأَرْضِ رَجُلٌ یَقُوْلُ : لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، إِلَّا کُفِّرَتْ عَنْہُ ذُنُوبُہُ وَلَوْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ)) ’’ خطۂ زمین پر جو شخص بھی یہ کلمات کہے : لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ تواس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں۔‘‘[4] [1] صحیح مسلم :409 [2] صحیح البخاری :6405،صحیح مسلم :2691 [3] صحیح البخاری :3293،صحیح مسلم :2691 [4] جامع الترمذی :3460۔وحسنہ الألبانی