کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 431
تسلیم کریں، اسی کیلئے تمام عبادات بجا لائیں اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائیں۔اسی کی تعظیم کریں، اسی پر توکل کریں، اسی سے امیدیں وابستہ کریں، اسی کا خوف کھائیں، اسی کے سامنے جھکیں، اسی کے سامنے رکوع وسجود کریں اور تمام عبادات میں اسے وحدہ لا شریک مانیں۔ اور رسولوں کی تصدیق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صدق دل سے انبیائے کرام علیہم السلام کی نبوت پر ایمان لائیں اور انھیں اللہ تعالی کے برگزیدہ بندے مانیں۔اس بات پر یقین رکھیں کہ تمام انبیاء ورسل علیہم السلام کو اللہ تعالی نے لوگوں کو اپنی توحید اور دین اسلام کی طرف دعوت دینے کیلئے اور غیر اللہ کی عبادت سے منع کرنے کیلئے مبعوث فرمایا۔ان پر وحی نازل کی اور وہ شرعی احکام اتارے کہ جن پر عمل کرکے ان کے پیروکار دنیا وآخرت کی فلاح وبہبود سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔ 2۔ایمان، اسلام، ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ یعنی جو شخص اللہ تعالی پر اس طرح ایمان لائے جیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ فرائض اسلام پر عمل کرتا رہے، اللہ کے دین کیلئے دار الکفر کو چھوڑ کر دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنی پڑے تو اس سے بھی گریز نہ کرے، اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کا موقع آئے تو اس سے بھی پیچھے نہ رہے، توایسے شخص کیلئے اللہ تعالی جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : (( أَنَا زَعِیْمٌ۔وَالزَّعِیْمُ : الْحَمِیْلُ۔لِمَنْ آمَنَ بِیْ وَأَسْلَمَ وَہَاجَرَ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ، وَبِبَیْتٍ فِیْ وَسَطِ الْجَنَّۃِ )) ’’ میں اس شخص کو جنت کے ادنی درجے میں ایک گھر اور جنت کے درمیانے درجے میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو میرے اوپر ایمان لایا، اسلام قبول کیا اور ہجرت کی۔‘‘ ((وَأَنَا زَعِیْمٌ لِمَنْ آمَنَ بِیْ وَأَسْلَمَ وَجَاہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ، وَبِبَیْتٍ فِیْ وَسَطِ الْجَنَّۃِ، وَبِبَیْتٍ فِیْ أَعْلٰی غُرَفِ الْجَنَّۃِ )) ’’اسی طرح میں اس شخص کو بھی جنت کے ادنی درجے میں ایک گھر اور جنت کے درمیانے درجے میں ایک گھر اور جنت کے اونچے بالا خانوں میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو میرے اوپر ایمان لایا، اسلام قبول کیا اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔‘‘ پھر فرمایا :