کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 40
(( اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُہُ وَلَا یُسْلِمُہُ، وَمَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ أَخِیْہِ کَانَ اللّٰہُ فِیْ حَاجَتِہٖ……)) [1] ’’ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، ( چنانچہ ) وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ظالموں کے سپرد کرتا ہے۔اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو پورا کرتا رہتا ہے۔‘‘ نیز فرمایا : (( مَنْ نَّفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ یَّسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ یَسَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَاللّٰہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ أَخِیْہِ )) [2] ’’ جو شخص کسی مومن کی دنیاوی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی کو ختم کرے تواللہ تعالیٰ اس کی اخروی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی کو ختم کردے گا۔اور جو شخص کسی تنگدست پر آسانی کرے تواللہ تعالیٰ اس کیلئے دنیا وآخرت میں آسانی کرے گا۔اور جو آدمی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے تواللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد کرتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے۔‘‘ پانچویں خصوصیت : پاکدامنی اسلامی معاشرے کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں رہنے والے تمام مسلمان پاکدامن ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی عزت وعصمت کا تحفظ کرنے والے ہوتے ہیں۔وہ کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کی طرف غلط نظروں سے نہیں دیکھتے بلکہ وہ ہر غیر محرم عورت سے اپنی نظریں جھکا کے رکھتے ہیں۔کیونکہ اللہ رب العزت کا ان کیلئے یہی حکم ہے : ﴿ قُلْ لِّلْمُؤمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ﴾[3] ’’ آپ مومنوں کو حکم دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کیلئے زیادہ پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔‘‘ اسی طرح اسلامی معاشرے میں بسنے والی خواتین بھی با حیا ہوتی ہیں، ان کی آنکھوں میں شرم ہوتی ہے اور وہ اپنی عصمت کا تحفظ کرنے والی ہوتی ہیں۔وہ اپنے گھروں میں ٹھہری رہتی ہیں اور بغیر ضرورت کے گھروں سے باہر نہیں نکلتیں اور جب نکلتی ہیں تو مکمل طور پر با پردہ ہو کر باوقار اندازسے نکلتی ہیں۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے [1] صحیح البخاری : 2442، صحیح مسلم :2580 [2] صحیح مسلم : 2699 [3] النور24 :30