کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 394
اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ھَوٰہُ بِغَیْرِ ھُدًی مِّنَ اللّٰہِ ﴾[1] ’’ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر محض اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو ؟ ‘‘ لہٰذا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے لگنے کی بجائے انسان کو اللہ رب العزت کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے۔ جو لوگ اپنے آپ کو نفسانی خواہشات کے پیچھے لگنے سے بچا لیتے ہیں تو اللہ تعالی ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرماتا ہے : ﴿ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ٭ فَإِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَأْوٰی﴾ [2] ’’ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اور اپنے نفس کو خواہش ( کی پیروی کرنے ) سے روکتارہا تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔‘‘ اللہ تعالی ہم سب کو نفسانی خواہشات کی اتباع کرنے سے محفوظ رکھے۔ 3۔تیسری مہلک چیز ہے : خود پسندی میں مبتلا ہونا جی ہاں، اپنے حسن وجمال، یا خوبصورت لباس، یا مال ودولت، یا ذہانت وفطانت کی بناء پر خود پسندی میں مبتلا ہونا بھی انسان کیلئے مہلک اور تباہ کن ہے۔ سب سے پہلے جو خود پسندی کا شکار ہوا وہ ابلیس ہے۔چنانچہ جب اس نے اللہ تعالی کے حکم پر آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اللہ تعالی نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا : ﴿أَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ﴾ ’’ میں اس سے بہتر ہوں ‘‘ تو نتیجہ کیا نکلا ؟ اللہ تعالی نے فرمایا : ﴿فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ ﴾[3] ’’ تُو اس ( جنت ) سے نکل جا، کیونکہ تو مردود ہے۔‘‘ اِس سے ثابت ہوا کہ خود پسندی انسان کو لے ڈوبتی ہے۔اور اس کا انجام بہت برا ہے۔ سورۃ الکہف میں اللہ تعالی نے دو آدمیوں کا قصہ بیان فرمایا ہے، جن میں سے ایک کو اللہ تعالی نے دو باغ عطا کئے تھے، ان کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑ لگا دی تھی اور ان دونوں کے درمیان قابل کاشت زمین بنائی تھی۔یہ دونوں باغ اپنا پورا پھل لائے اور بار آور ہونے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔اس کے علاوہ اللہ تعالی نے ان کے بیچوں بیچ نہر بھی جاری کر دی تھی……یہ اللہ تعالی کی اس پر بڑی نعمتیں تھیں جن پر اسے اللہ تعالی کا شکرگزار ہونا چاہئے تھا۔لیکن وہ خود پسندی کا شکار ہوگیا اور اپنے ساتھی سے کہنے لگا : [1] القصص28 :50 [2] النازعات79 : 40۔41 [3] الحجر15 :34