کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 39
اسلامی معاشرے میں بسنے والا ہر شخص دوسرے کا خیر خواہ ہوتا ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اولین اسلامی معاشرے کے باسیوں کی تربیت اسی چیز پر کی تھی۔جیسا کہ ابو رقیہ تمیم بن اوس الداری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : (( اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ ( ثَلَاثًا )، قُلْنَا: لِمَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ قَالَ : لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہٖ، وَلِأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِہِمْ)) [1] ’’دین خیر خواہی کا نام ہے۔‘‘ آپ نے تین بار فرمایا۔ہم نے کہا : کس کیلئے اے اللہ کے رسول ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ کیلئے، اس کی کتاب کیلئے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے، مسلمانوں کے حکمرانوں کیلئے اور عام مسلمانوں کیلئے۔‘‘ اورحضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (( بَایَعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَلٰی إِقَامِ الصَّلاَۃِ وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ )) ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی کہ نماز ہمیشہ پڑھتا رہونگا، زکاۃ دیتا رہونگا اور ہر مسلمان کیلئے خیر خواہی کرونگا۔‘‘[2] اور خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کیلئے ہر وہ چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔اور ہر اس چیز کو اپنے بھائی کیلئے نا پسند کرے جو اپنے لئے نا پسند کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : (( لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ )) [3] ’’ تم میں سے کوئی شخص (کامل ) ایمان والا نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کیلئے بھی وہی چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔‘‘ اسلامی معاشرے میں ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے تعلق کس طرح کاہونا چاہئے اس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : [1] رواہ مسلم۔کتاب الإیمان باب بیان أن الدین النصیحۃ۔حدیث 55 [2] صحیح البخاری :1401، صحیح مسلم : 56 [3] صحیح البخاری :13، صحیح مسلم :45