کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 377
ان آیات سے ثابت ہوا کہ کفار کے خلاف جنگ میں فرشتے اللہ تعالی کے حکم سے نازل ہوتے ہیں اور ان مومنوں کی مدد کرتے ہیں جو اس میں شریک ہوتے ہیں۔ اسی طرح ارشاد فرمایا : ﴿ اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْھُمْ کُلَّ بَنَان ﴾ [1] ’’ اس وقت کو یاد کرو جب آپ کے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، لہذا تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ، میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا، سو تم گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور کو مارو۔‘‘یعنی ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے کنارے کاٹ دو۔تاکہ یہ نہ تلوار چلانے کے قابل رہیں اور نہ ہی بھاگنے کے قابل رہیں۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ فرشتے جنگ میں مومنوں کو ثابت قدم رکھنے اور ان کی مدد کیلئے اللہ تعالی کے حکم سے نازل ہوتے ہیں۔ 12۔مصیبت میں پھنسے ہوئے مومنوں کی مدد کیلئے فرشتوں کا نزول جی ہاں، فرشتے مصیبت میں پھنسے ہوئے مومنوں کی مدد کیلئے بھی نازل ہوتے ہیں۔اور اس کیلئے ہم یہاں دو دلیلیں ذکر کرتے ہیں : ۱۔ام اسماعیل حضرت ہاجرہ کی مدد کیلئے حضرت جبریل علیہ السلام کا نزول حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش کیلئے صفا اور مروہ کے درمیان بار بار چکر لگا رہی تھیں تو جب وہ ساتویں چکر میں مروہ پر چڑھیں تو ایک آواز سنی۔انھوں نے اپنے آپ سے کہا: خاموش رہو (بات سنو۔) پھر کان لگایا تو وہی آواز سنی۔کہنے لگیں : میں نے تیری آواز سنی، کیا توکچھ ہماری مدد کر سکتا ہے ؟ آپ نے اسی وقت زمزم کے مقام پر ایک فرشتہ دیکھا جس نے اپنی ایڑی یا اپنا پر زمین پر مارکر اسے کھود ڈالا تو پانی نکل آیا۔حضرت ہاجرہ اسے حوض کی طرح بنانے لگیں اور اپنے ہاتھ سے منڈیر باندھنے لگیں اور چلؤوں سے پانی اپنے مشکیزہ میں بھرنے لگیں۔جب وہ چلو سے پانی لیتیں تو اس کے بعد جوش سے پانی نکل آتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( یَرْحَمُ اللّٰہُ أُمَّ إِسْمَاعِیْلَ لَوْ تَرَکَتْ زَمْزَمَ۔أَوْ قَالَ : لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَائِ لَکَانَتْ زَمْزَمُ عَیْنًا مَعِیْنًا )) [1] الأنفال8 :12