کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 35
’’ اس ( اللہ ) نے مومنوں کے دلوں میں الفت پیدا کی، اگر آپ زمین پر موجود تمام چیزیں خرچ کر ڈالتے تو پھر بھی آپ ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں محبت پیدا کر دی جو غالب اور حکمتوں والا ہے۔‘‘ جبکہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت اور گروہ بندی انتہائی بھیانک شکل اختیار کر چکی ہے۔اور صورتحال یہ ہے کہ اللہ کے گھروں پر بھی مخصوص گروہوں کے لیبل لگا دئیے گئے ہیں۔چنانچہ ہر فرقے کے لوگ انھی مساجد میں نماز پڑھتے ہیں جن پر ان کے فرقے کا نام نمایاں ہوتا ہے۔اور اگر کسی دوسری جماعت کا کوئی شخص بھول کر ان مساجد میں چلا بھی جائے تو اسے ناپاک گردانتے ہوئے مسجد کو باقاعدہ دھو کر پاک کیا جاتا ہے ! یا کم ازکم اسے گھور گھور کر ضرور دیکھا جاتا ہے اور اس پر آوازیں ضرور کسی جاتی ہیں ! ہر گروہ ﴿کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُونَ﴾ کا عملی نقشہ پیش کر رہا ہے، کہ جو جس عقیدے اور نظریے پر لگا ہوا ہے وہ اسی کو حق تصور کرتا اور دوسرے تمام لوگوں کو باطل پر سمجھتا ہے ! اِس صورتحال میں ہمارا اسلامی معاشرہ قطعا ترقی نہیں کر سکتا اور نہ اس کی اصلاح ہو سکتی ہے جب تک کہ معاشرے کے تمام باشندے ایک جماعت نہ بن جائیں اور جب تک کہ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے الفت ومحبت پیدا نہ ہواور وہ بھائی بھائی نہ بن جائیں۔اللہ رب العزت کا فرمان ہے : ﴿ وَاِِنَّ ہٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ ﴾[1] ’’ اور تمھاری یہ امت ( درحقیقت ) ایک ہی امت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، لہٰذاتم مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘ دوسری آیت میں فرمایا : ﴿ اِنَّ ھٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ ﴾[2] ’’ یہ تمھاری امت یقینا ایک ہی امت ہے۔اور میں تمھارا رب ہوں۔لہٰذاتم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ ہاں معاشرے میں اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔اور اختلافات کا پیدا ہونا برا نہیں، بلکہ برا یہ ہے کہ اختلافات پیداہوں اور انھیں ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی جائے۔اختلاف تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ما بین بھی پیدا ہو جاتا تھا، لیکن وہ اسے قرآن وحدیث کی روشنی میں حل کرلیتے تھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی بات کا حکم دیا ہے : ﴿یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا اَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْیئٍ فَرُدُّوْہُ اِلیَ اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلاً ﴾[3] [1] المؤمنون 23:52 [2] الأنبیاء 21:92 [3] النساء4:59