کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 344
اس کے بعد فرمایا :((ذَرُوْنِیْ مَا تَرَکْتُکُمْ، فَإِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلٰی أَنْبِیَائِہِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْیٍٔ فَأْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَہَیْتُکُمْ عَنْ شَیْیٍٔ فَدَعُوْہُ)) [1] ’’ جب تک میں خود تمھیں کچھ نہ بتاؤں اُس وقت تم بھی مجھ سے کچھ نہ پوچھا کرو۔کیونکہ تم سے پہلے لو گ اپنے نبیوں سے بہت زیادہ سوالات اور ان سے اختلاف کرکے ہی ہلاک ہوئے۔لہذا جب میں تمھیں کوئی حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کیا کرو۔اور جب میں تمھیں کسی چیز سے روکوں تو اسے چھوڑ دیا کرو۔‘‘ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (( إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْمُسْلِمِیْنَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَیْیئٍ لَمْ یُحَرَّمْ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ، فَحُرِّمَ عَلَیْہِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِہٖ )) [2] ’’ مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہ کی گئی ہو، پھر اسے مسلمانوں پر اُس کے سوال کی وجہ سے حرام کردیا گیا۔‘‘ 7۔دعا میں غلو کرنا دعا کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ وہ چپکے چپکے دعا کرے اور اونچی اونچی آواز میں چیخ وپکار کرتے ہوئے دعا نہ کرے جیسا کہ عموما طواف اور صفا ومروہ کی سعی کے دوران نظر آتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴾[3] ’’ تم اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے پکارو کیونکہ وہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ دعا میں ’غلو ‘ کی ایک صورت تو یہ ہے کہ دعا کرنے والا دورانِ دعا اپنی آواز میں حد سے تجاوز کرے اور اونچی اونچی آواز میں دعا کرے۔اور ایسا کرنا ہرگز جائز نہیں۔کیونکہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔جب ہم کسی وادی کے قریب پہنچتے تو اونچی اونچی آواز کے ساتھ لا إلہ إلا اللّٰه اور اللّٰه اکبر کہنا شروع کردیتے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : [1] صحیح مسلم :1337 [2] صحیح البخاری :7289، صحیح مسلم :2358واللفظ لہ [3] الأعراف7 :55