کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 335
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں یہ شعر بھی پڑھا جاتا ہے : ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر نفس گم کردہ می آید جنید وبا یزید ایں جا یعنی ’’ آسمان کے نیچے ادب کی ایک ایسی جگہ ہے جو عرش سے بھی نازک ہے، جہاں جنیداور بایزید جیسے بزرگ بھی سانس روک کر حاضر ہوتے ہیں۔‘‘ اسی طرح ایک اور شعر آج کل زبان زدعام ہے : کعبے کی عظمتوں کا منکر نہیں ہوں میں کعبے کا بھی کعبہ پیارے نبی کا روضہ جبکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعریف میں غلو سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : (( لَا تُطْرُوْنِیْ کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَی ابْنَ مَرْیَمَ فإِنَّمَا أَنَا عَبْدُہُ فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ )) ’’ میری تعریف وتعظیم میں حد سے تجاوز نہ کرو، جیسا کہ نصاری نے عیسی بن مریم ( علیہ السلام ) کی تعریف وتعظیم میں حد سے تجاوز کیا۔میں تو محض اللہ کا ایک بندہ ہوں، لہٰذا تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہا کرو۔‘‘[1] اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان اختیارات کا مالک تصور کرنا جو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاجت روا، یا مشکل کشا، یا غوث تصور کرنا حرام ہے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام اور تعظیم کی جو حد مقرر کردی گئی ہے اس سے تجاوز ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿ قُلْ لاَّ أَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا إِلاَّ مَا شَائَ اللّٰہُ وَلَوْ کُنْتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْئُ إِنْ أَنَا إِلاَّ نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤمِنُوْنَ ﴾[2] ’’ کہہ دیجئے کہ مجھے تو خود اپنے نفع ونقصان کا اختیار بھی نہیں ہے، مگر اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔میں تو محض ایک ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان کیلئے جو ایمان لے آئیں۔‘‘ نیز فرمایا : ﴿ قُلْ لاَّ أَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَائِنُ اللّٰہِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَا أَقُوْلُ لَکُمْ إِنِّیْ مَلَکٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوْحٰی إِلَیَّ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الْأعْمٰی وَالْبَصِیْرُ أَفَلَا تَتَفَکَّرُوْنَ ﴾[3] ’’ آپ ان سے کہئے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ ہی میں غیب کی باتیں جانتا ہوں۔اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں بلکہ میں تو پیروی کرتا ہوں اس چیز کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔آپ ان سے پوچھئے کہ کیا نا بینا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں ؟ پھر تم لوگ کیوں نہیں سوچتے ؟ ‘‘ [1] صحیح البخاری :3445 [2] الأعراف : 188 [3] الأنعام6 :50