کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 33
چاہئیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان آیات مبارکہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمیں کتاب اللہ اور سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرنا چاہئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات قرآن مجید اور کتب ِ حدیث سے ہی مل سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو انہی دو چیزوں کو مضبوطی سے تھامنے کی خصوصی وصیت فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (( تَرَکْتُ فِیْکُمْ أَمْرَیْنِ، لَنْ تَضِلُّوْا مَا إِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِہِمَا : کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّتِیْ، وَلَنْ یَّتَفَرَّقَا حَتّٰی یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ)) [1] ’’ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔تم جب تک انھیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ایک ہے کتاب اللہ ( قرآن مجید ) اور دوسری ہے میری سنت۔اور یہ دونوں کبھی جدا جدا نہیں ہو نگی یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس آئیں گی۔‘‘ اور اولین اسلامی معاشرے کے باسیوں کا یہی منہج اور طرز عمل تھا کہ وہ کتاب اللہ اور سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وفرمانبرداری کرتے تھے۔اور انہی لوگوں اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’ فرقۂ ناجیہ ‘قرار دیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ یہود ۷۱ فرقوں میں اور نصاری ۷۲ فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت کے لوگ ۷۳ فرقوں میں تقسیم ہوں گے۔ان میں سے ایک کے سوا باقی سب جہنم میں جائیں گے۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : یا رسول اللہ ! وہ ایک گروہ کونسا ہے جو نجات پائے گا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( مَا أَنَا عَلَیْہِ وَأَصْحَابِی )) ’’ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔‘‘ ایک روایت میں ارشاد فرمایا : ( وَہِیَ الْجَمَاعَۃُ ) ’’ نجات پانے والا گروہ ہی جماعت ہے۔‘‘[2] سوال یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کس چیز پر قائم تھے کہ جس پر قائم رہنے والی جماعت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’ نجات پانے والی جماعت ‘ قرار دیا ؟ تو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ وہ کتاب وسنت ہی کی اتباع پر قائم تھے۔ان کے ہاں ان دو چیزوں کے علاوہ کوئی تیسری چیز نہ تھی جس کی وہ اتباع کرتے۔لہٰذاآج بھی کوئی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کی اصلاح ہو سکتی ہے جب تک کہ اس میں بسنے والے تمام لوگ پورے اخلاص کے ساتھ کتاب وسنت کو اپنا دستور حیات نہ بنائیں۔ [1] رواہ الحاکم:319،والدار قطنی:4/345 وحسنہ الألبانی فی المشکاۃ:186،وصحیح الجامع: 2937،3232 [2] سنن الترمذی :2641۔وأبو داؤد : 4597، وابن ماجہ:3993 وحسنہ الألبانی