کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 328
دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔انھوں نے کہا : عمر بن الخطاب آپ کو سلام کہہ رہے ہیں۔اور اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کیلئے آپ سے اجازت کے طلبگار ہیں۔تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں وہ جگہ اپنے لئے چاہتی تھی، لیکن آج میں عمر رضی اللہ عنہ کی خواہش کو اپنی خواہش پر ترجیح دیتی ہوں۔ چنانچہ جب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : یہ عبد اللہ آگیا ہے۔تو انھوں نے فرمایا : مجھے اٹھا کے بٹھاؤ۔لہذا ایک آدمی نے انھیں سہارا دیا۔تو آپ نے پوچھا : ہاں، تمھارے پاس کیا خبر ہے ؟ انھوں نے کہا : جو آپ پسند کرتے ہیں وہی۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی ہے۔تو انھوں نے کہا : الحمد للہ۔میرے لئے اس سے زیادہ اہم بات کوئی نہ تھی۔لہذا جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اٹھا کر لے جانا۔پھر سلام کہنا اور کہنا : عمر بن الخطاب اجازت طلب کرتا ہے۔اگر عائشہ رضی اللہ عنہا اجازت دے دیں تو مجھے اندر لے جانا اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو مجھے مسلمانوں کے عام قبرستان میں دفن کردینا………… چنانچہ جب آپ فوت ہو گئے تو ہم انھیں اٹھا کر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس لے گئے۔عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سلام کہنے کے بعد کہا : عمر بن الخطاب آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔تو انھوں نے کہا : اندر لے آؤ۔چنانچہ انھیں اندر لے جایا گیا۔اور ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ انھیں دفن کردیا گیا۔[1] محترم حضرات ! ہم آخر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی زبانی ایک واقعہ ذکر کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی جناب عمر رضی اللہ عنہ کے مداح تھے۔یاد رہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی جناب عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تھا۔جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے مابین پیار ومحبت پر مبنی تعلقات تھے۔ایسا نہیں جیسا کہ لوگ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے ! تو یہ دعوی بالکل درست نہیں ہے، بلکہ یہ دعوی باطل ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کیلئے دعا کر رہے تھے، آپ رضی اللہ عنہ کو ایک چارپائی پر لٹایا گیا تھا، اچانک ایک شخص میرے پیچھے سے آیا اور میرے کندھوں پر اپنی کہنی رکھ کر کہنے لگا : ’’ اے عمر ! اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے، مجھے اللہ تعالی سے یہی امید تھی کہ وہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ملا دے گا، کیونکہ میں اکثر وبیشتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا کرتا تھا کہ [1] صحیح البخاری :3700