کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 324
بھی مسلمانوں نے فتح کر لیا۔اس کے بعد ۲۲ ؁ ھ میں مسلم فوج نے طرابلس پر بھی اسلامی جھنڈے گاڑھ دئیے۔ ملک فارس کی فتوحات جنگ یرموک میں فتح کے بعد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے جہاں اسلامی فوج کے ایک حصے کو بلاد شام کو مکمل طور پر فتح کرنے کا حکم دیا، وہاں اسلامی فوج کے دوسرے حصے کو بلادِ فارس کی طرف بھی پیش قدمی کرنے کا حکم دیا۔چنانچہ بلادِ فارس میں اسلامی فوج کو جو فتوحات حاصل ہوئیں ان کا مختصر تذکرہ کچھ یوں ہے : ٭ ۱۳ ؁ھ میں معرکۃ الجسرہوا جس میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ ٭ پھر اسی سال رمضان کے مہینے میں ( البویب ) کے مقام پر جنگ ہوئی جس میں مسلمانوں نے معرکۃ الجسر کا بدلہ لیا اور فتح حاصل کی۔اِس معرکہ میں مسلمانوں کے قائد مثنی بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ٭ ۱۴ ؁ھ میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ’ قادسیہ ‘ کی مشہور جنگ ہوئی۔جس میں مسلمانوں نے شجاعت وبہادری کے عظیم نمونے پیش کئے۔کئی دن کی مسلسل لڑائی کے بعد اللہ تعالی نے مسلمانوں کو فتح نصیب کی۔جس سے ’ مدائن ‘ کی فتح کا راستہ ہموار ہوا۔ ٭ ۱۶ ؁ھ میں ’ مدائن ‘ فتح ہوا۔جہاں کسری کے محلات تھے اور ان میں اس کے خزانے بھی تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے عین مطابق اللہ تعالی نے کسری کے بیش بہا خزانے مسلمانوں کے قدموں تلے بچھا دئیے۔ ٭پھر ۱۶ ؁ھ میں ہی ’ معرکۂ جلولا ‘ ہوا۔اور اس میں بھی مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ ٭ اس کے بعد ’ تکریت ‘ اور ’ موصل ‘ بھی فتح ہوگئے۔یوں ’ دجلہ ‘ اور ’ فرات ‘ کے درمیان واقع تمام علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔ ٭ ۲۱ ؁ھ میں ’ نہاوند ‘ کی مشہور جنگ ہوئی۔جس میں فتحیاب ہونے کے بعد مسلمانوں نے اسے ( فتح الفتوح ) قرار دیا۔کیونکہ اس میں مسلمانوں نے فارسیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔اور پھر فارس کے بقیہ علاقوں کو فتح کرنا آسان ہوگیا۔اِس جنگ میں مسلمانوں کے قائد نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے، جن کے بعد حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی قیادت سنبھال لی۔ ٭ ’ نہاوند ‘ کے بعد مسلمانوں نے ’ اصبہان ‘ پر بھی قبضہ کر لیا۔اس کے بعد ’ قم ‘، ’ قاشان ‘ اور ’ ’ کرمان ‘ کے علاقے بھی فتح کر لئے۔اور مسلمان اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر خونی جنگیں لڑتے ہوئے مشرق کی جانب دریائے جیحون اور سندھ تک اور جنوب کی جانب بحر ہند تک اور شمال کی جانب بحر قزوین اور ارمینیا تک جا پہنچے۔ محترم سامعین ! جن فتوحات کا ہم نے مختصر تذکرہ کیا ہے یہ صرف نو سال کے قلیل عرصے میں مسلمانوں کو