کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 318
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : (( مَا أَبْقَیْتَ لِأَہْلِکَ ؟ )) ’’ اپنے گھر والوں کیلئے کیا چھوڑ کر آئے ہو ؟ ‘‘ میں نے کہا : ( مِثْلَہُ ) جتنا مال آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے اتنا ہی گھر والوں کیلئے چھوڑ آیا ہوں۔ پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنا پورا مال لے آئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا۔ آپ نے پوچھا :(( مَا أَبْقَیْتَ لِأَہْلِکَ ؟ ))’’ اپنے گھر والوں کیلئے کیا چھوڑ کر آئے ہو ؟ ‘‘ تو انھوں نے کہا :( أَبْقَیْتُ لَہُمُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ ) میں ان کیلئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر آیا ہوں۔ تب میں نے کہا :( لَا أُسَابِقُکَ إِلٰی شَیْیئٍ أَبَدًا ) میں آپ سے کسی چیز میں کبھی سبقت نہیں لے جا سکتا۔[1] اور ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی تو وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں مشورہ کرنے کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے اور اس سے زیادہ عمدہ اور نفیس مال مجھے کبھی نہیں ملا۔تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا )) ’’ اگر آپ چاہیں تو اس کی ملکیت اپنے پاس رکھیں اور اس کی آمدنی صدقہ کردیں۔‘‘ یعنی اسے وقف کردیں۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں فیصلہ کر دیا کہ اسے بیچا نہیں جائے گا، اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جائے گا اور وہ کسی کو ہبہ بھی نہیں کی جائے گی۔اور اس کی آمدنی انھوں نے فقیروں، رشتہ داروں، غلاموں، مسافروں اور مہمانوں کیلئے اور اللہ کے راستے ( جہاد ) میں خرچ کرنے کیلئے صدقہ کردی۔[2] یہ دونوں واقعات اس بات کے دلائل ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ انفاق فی سبیل اللہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ 5۔غزوات میں شرکت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی اور میدان جہاد میں شجاعت وبہادری کے اعلی نمونے پیش کئے۔آپ رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوہ بنی المصطلق، غزوۂ خندق، صلح حدیبیہ، غزوۂ خیبر، فتح مکہ، جنگ حنین اور غزوۂ تبوک سمیت تمام جنگوں میں شریک ہوئے۔اور ان جنگوں میں [1] سنن أبی داؤد : 1678۔وحسنہ الألبانی [2] صحیح البخاری : 2737، صحیح مسلم :1632