کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 31
تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت وعقیدت کی آبیاری کی، چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے امیدیں وابستہ کرنے لگے، اسی کا خوف اپنے دلوں میں بسانے لگے، اسی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگے۔وہ لوگ جو کل تک ’لات، عزی اور مناۃ ‘وغیرہ کو نفع ونقصان کا مالک سمجھتے تھے اب وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو نفع ونقصان کا مالک سمجھنے لگے۔یہ لوگ اسلام قبول کرنے سے پہلے خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کو داتا، دستگیر، غریب نواز اور غوث تصور کرتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی توحید کا نور دکھلایا تو یہ اللہ تعالیٰ کو ہی داتا، دستگیر، غریب نواز اور غوث اعظم تصور کرنے لگے۔یہ انقلابی تبدیلی تھی جو ایک کامیاب مسلم معاشرہ کے معرض وجود میں آنے کی پہلی بنیاد بنی۔ پہلا اسلامی معاشرہ جو مدینہ منورہ میں معرض وجود میں آیا وہ انہی لوگوں پر مشتمل تھا۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی روشنی میں ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے سب سے پہلے معاشرے میں بسنے والے مسلمانوں کے عقیدے کی اصلاح کرنا ضروری امر ہے۔ جبکہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں شرک انتہائی بھیانک صورت میں موجو د ہے، وہ مقامات کہ جہاں سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اورکو پکارا نہیں جانا چاہئے تھا، وہاں غیر اللہ کو پکارا جاتا ہے، غیر اللہ کے نام کی نذرو نیاز پیش کی جاتی ہے اور غیر اللہ کے سامنے رکوع وسجود جیسی عبادات انجام دی جاتی ہیں۔روزانہ لاکھوں لوگ ان مقامات پر آتے جاتے اور شرکیہ اعمال کرتے ہیں۔اورشرک کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے عذاب کو کھلم کھلا دعوت دیتے ہیں!جبکہ شرک کو اللہ تعالیٰ نے ظلم عظیم قرار دیا ہے۔اِس صورتحال میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے معاشرے کی اصلاح ہو اور معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو ! یقینا یہ ناممکن ہے جب تک کہ تمام مسلمان شرک سے توبہ نہ کریں اور جب تک شرکیہ مراکز ختم نہ کئے جائیں۔ شرک سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور جس قوم سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے تو وہ قوم کیسے ترقی کر سکتی ہے! اور ایسی قوم جس معاشرے کا حصہ ہوگی وہ معاشرہ کیسے کامیابی کی راہیں طے کر سکتا ہے ! یقینا یہ لمحہ فکریہ ہے ! اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معاشرے کی اصلاح کیلئے سب سے پہلے معاشرے میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے عقیدے کا درست ہونا اور شرک کی غلاظت سے پاک ہوناضروری ہے۔