کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 309
1۔میں نے کہا :یا رسول اللہ ! کاش ہم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لیں ! تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کردی : ﴿وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی﴾ ’’ اور تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو۔‘‘ 2۔اور میں نے کہا : یا رسول اللہ ! کاش آپ اپنی بیویوں کو پردہ کرنے کا حکم دیں، کیونکہ ان سے اچھا آدمی بھی گفتگو کرتا ہے اور برا بھی۔تو اللہ تعالی نے پردہ والی آیت نازل کردی۔ یعنی یہ آیت﴿وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ﴾[1] 3۔اسی طرح جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی (بعض) بیویوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غیرت کھاتے ہوئے آپس میں گٹھ جوڑ کر لیا تھا تو میں نے ان سے کہا : ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب تمھیں طلاق دے دے اور ان کی شادی تم سے بہتر خواتین سے کر دے۔تو اللہ تعالی نے بالکل انہی الفاظ میں یہ آیت نازل کردی : ﴿عَسٰی رَبُّہٗٓ اِِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٗٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ ﴾[2] 4۔صحیح مسلم کی روایت میں تیسرا مسئلہ بدر کے قیدیوں کا ہے۔[3] جس کی وضاحت کرتے ہوئے ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ بدر کے دن جب اللہ تعالی نے مشرکوں کو شکست دی اور ان میں سے ستر افراد مارے گئے اور ستر افراد کو قیدی بنا لیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے بارے میں ابو بکرو عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ طلب کیا اور فرمایا : (( مَا تَرَوْنَ فِیْ ہٰؤُلَائِ الْأسْرَی؟)) ’’ ان قیدیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ ‘‘ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ ہمارے چچا زاد اور قبیلے کے لوگ ہیں، آپ ان سے فدیہ لے لیں جس سے ہمیں ان کافروں پر طاقت حاصل ہوجائے گی ( یعنی اس مال سے آئندہ جنگ کی تیاری کرنے میں ہمیں کافی مدد ملے گی ) اور شاید اللہ تعالی انھیں اسلام قبول کرنے کیلئے ہدایت دے دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( مَا تَرَی یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟) ’’ ابن خطاب ! آپ کا کیا خیال ہے ؟ ‘‘ تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میری رائے وہ نہیں جو ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ہے۔میرا خیال یہ ہے کہ آپ ہمیں اجازت دیں، ہم ان کی گردنیں اتار دیں۔عقیل کو علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیں، وہ اس کی گردن اڑا دیں، میرے فلاں قریبی رشتہ دار کو میرے حوالے کردیں، میں اس کی گردن اڑا دوں۔کیونکہ یہ کفر کے سرغنے اور کافروں کے [1] الأحزاب33 :53 [2] صحیح البخاری :402 [3] صحیح مسلم :2399