کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 306
چاہتا ہوں۔‘‘[1] اسی طرح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : (( ہٰذَانِ سَیِّدَا کُہُوْلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ مِنَ الْأوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَ إِلَّا النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ[2])) ’’ یہ دونوں انبیاء ورسل علیہم السلام کے علاوہ باقی تمام اول وآخر اہل جنت میں عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہونگے۔‘‘ 3۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا محل دیکھا جی ہاں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نہ صرف جنت کی بشارت دی بلکہ جنت میں ان کا محل بھی دیکھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں ہوں اور ایک عورت ایک محل کے ایک کونے میں بیٹھی وضو کر رہی ہے، میں نے پوچھا : یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا : یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ کی غیرت کو یاد کرکے میں وہاں سے چلا گیا۔‘‘ [3] اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے سونے کا ایک محل دیکھا۔میں نے پوچھا : یہ کس کا ہے؟ انھوں نے کہا : یہ قریش کے ایک شخص کا ہے۔تو میں نے گمان کیا کہ شاید وہ میں ہوں اس لئے میں نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ انھوں نے کہا : عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے ابن الخطاب ! مجھے اس میں داخل ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں تھی سوائے اس کے کہ میں تمھاری غیرت کو جانتا تھا۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا ؟[4] 4۔شیطان بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دور بھاگتا تھا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش کی کچھ خواتین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی آپ سے بآواز بلند [1] صحیح البخاری :3693 [2] جامع الترمذی : 3666۔وصححہ الألبانی [3] صحیح البخاری :3680،صحیح مسلم :2395 [4] صحیح البخاری:5226 و7024، صحیح مسلم :2394