کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 303
ہے ! اسے میرے پاس لاؤ۔چنانچہ اسے بلایا گیا۔تو انھوں نے اسے یہی بات کہی۔اس نے کہا : میں نے آج کے دن جیسا دن کبھی نہیں دیکھا کہ جس میں ایک مسلمان آدمی کا استقبال کیا گیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم مجھے ضرور بتاؤ۔اس نے کہا : میں زمانۂ جاہلیت میں ان کا کاہن ہوتا تھا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تمھاری جِننی ( جن کی مؤنث ) نے تمھیں جو خبر دی اس میں کونسی حیران کن بات ہے ؟ تو اس نے کہا : میں ایک دن بازار میں تھا کہ وہ میرے پاس آئی، میں اس پر گھبراہٹ کے آثار پہچان رہا تھا۔اس نے آتے ہی کہا : آپ جنوں کے اوندھا ہونے کے بعد ان کی ناکامی اور ناامیدی نہیں دیکھتے ! اب بستیوں میں ان کی آمد ورفت نہیں ہوگی، بلکہ اب وہ اونٹنیوں وغیرہ کے ساتھ جنگل میں ہی رہیں گے۔ ( اُس کی اِس بات میں اشارہ تھا کہ ایک نبی آچکا ہے جس کی وجہ سے اب شیطان جنوں کی آمد ورفت بہت ہی محدود ہو گئی ہے۔) تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اِس نے سچ کہا ہے۔پھر انھوں نے اپنا واقعہ سناتے ہوئے کہا : میں ان کے ( مشرکین مکہ ) کے معبودوں کے پاس سویا ہوا تھا، اسی دوران ایک آدمی ایک بچھڑا لے کر آیا، پھر اسے ذبح کیا۔اچانک ایک چیخ آئی، وہ اتنی شدیدتھی کہ میں نے اس سے زیادہ سخت چیخ کبھی نہیں سنی۔اس نے کہا : ( یَا جَلِیْحْ ! أَمْرٌ نَجِیْحْ، رَجُلٌ فَصِیْحْ یَقُولُ : لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ ) ’’اے چست وچالاک آدمی ! ایک معاملہ کامیابی کا ظاہر ہوا ہے، ایک فصیح زبان والا آدمی کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ چنانچہ لوگ چونک گئے۔میں نے ( دل میں ) کہا : میں یہ جان کر رہوں گاکہ اِس آواز کی حقیقت کیا ہے ! اُس چیخنے والے نے پھر وہی بات دہرائی۔تو میں ا ٹھ کر بیٹھ گیا۔اس کے بعد تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ کہا گیا کہ یہ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نبی ہیں۔[1] خلاصہ یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کے متعلق ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اور شدید تمنا تھی، تو دوسری خود عمر رضی اللہ عنہ نے جب کچھ دلائل کا خود مشاہدہ کر لیا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت پر دلالت کرتے تھے تو آپ نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر نہیں کی، بلکہ بہت جلد اسلام قبول کرلیا۔اسی لئے آپ کو ’ سابقین اولین ‘ میں شمار کیا جاتا ہے۔اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے ۳۹ افراد اسلام لا چکے تھے۔اور عمر رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والے چالیسویں فرد تھے۔ [1] صحیح البخاری : 3866