کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 30
ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی معاشرے کی بنیاد ہی توحید باری تعالیٰ کے اقرار پر رکھی تھی۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کا آغاز ہی توحید باری تعالیٰ سے کیا تھا۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں دعوت کا آغاز اِس جملہ سے کیا : ( قُولُوا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا ) ’’ تم سب اقرار کرو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، یہ اقرارکر لو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔‘‘ یاد رہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمۂ توحید ( لا إلہ إلا اللّٰه ) کی طرف دعوت دی تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صرف باری تعالیٰ کو رب ( خالق ومالک، رازق اور مدبر الأمور ) ماننا ہی نہیں تھا کیونکہ مشرکین ِ مکہ اللہ تعالیٰ کو خالق ومالک مانتے تھے جیسا کہ سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر ۶۱اور ۶۳ میں اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت فرما دی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اِس بات کو بھی دل سے تسلیم کیا جائے کہ معبود برحق بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، تمام عبادات کے لائق وہی ہے اور ہر قسم کی عبادت اسی کیلئے روا ہے۔نماز، روزہ، حج، زکاۃ، قربانی، نذر ونیاز، رکوع وسجود، استعانۃ، استغاثہ، امید ورجاء، خوف وخشیت، توکل، دعا، عاجزی وانکساری، تذلل وخشوع، عقیدت ومحبت……الغرض یہ کہ تمام تر عبادات میں وہ وحدہ لا شریک ہے۔ کلمۂ توحید کا یہی مفہوم جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ کے سامنے پیش کیا تو وہ کہنے لگے : ﴿اَجَعَلَ الْآلِھَۃَ إِلٰھًا وَّاحِدًا إِنَّ ھٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ ﴾ [1] ’’کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا، یہ تو بڑی عجیب بات ہے ‘‘ یعنی ان کے لئے کلمۂ توحید کا یہ مفہوم ناقابلِ فہم تھا کیونکہ وہ تو تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔اسی لئے ایک ہی معبود کا تصور ان کے لئے باعث ِ تعجب تھا اور وہ اسے ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے، بلکہ کہنے لگے : ﴿ اَئِنَّا لَتَارِکُوْا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ ﴾[2] ’’ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں ؟‘‘ اسی توحید کو ’توحید الوہیت‘ کہتے ہیں اور یہ سب سے اہم بنیاد ہے اسلامی معاشرے کی تشکیل کیلئے اور اس کی ترقی اور کامرانی وکامیابی کیلئے۔اسی لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پوری مکی زندگی میں اُن تمام لوگوں کی تربیت اسی توحید باری تعالیٰ کی بنیاد پر ہی کرتے رہے جو کچھ عرصہ بعد مدینہ منورہ میں اولین اسلامی معاشرے کا حصہ بننے والے [1] ص38:5 [2] الصافّات37: 36