کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 295
ہُمُ الْمُؤمِنُونَ حَقًّا لَہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیمٌ﴾ [1] ’’ سچے مومن تو وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔اور جب انھیں اللہ کی آیات سنائی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔اور وہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔(اور) وہ نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے جو مال ودولت انھیں دے رکھا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔یہی سچے مومن ہیں جن کیلئے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں، بخشش ہے اور عزت کی روزی ہے۔‘‘ اور جس مومن کی آنکھ سے اللہ کے ڈر کے وجہ سے آنسو بہہ نکلتے ہیں، اس کے بارے میں رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : (( عَیْنَانِ لَا تَمَسُّہُمَا النَّارُ : عَیْنٌ بَکَتْ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ، وَعَیْنٌ بَاتَتْ تَحْرِسُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ)) [2] ’’ دو آنکھیں ایسی ہیں جنھیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر کی وجہ سے رو دی۔دوسری وہ آنکھ جو اللہ کے راستے میں رات کو پہرہ دیتی رہی۔‘‘ محترم حضرات ! ہم نے سات قسم کے خوش نصیب لوگوں کا تذکرہ کیا ہے جنھیں اللہ تعالی قیامت کے روز اپنے عرش کا سایہ نصیب کرے گا۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ہم سب کو بھی ان حضرات میں شامل فرمائے۔ [1] الأنفال8 :2۔4 [2] صحیح الجامع الصغیر :4113