کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 294
عَنکُمْ مِّن سَیِّئَاتِکُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ ﴾[1] ’’ اگر تم صدقات ظاہراً دو تووہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہلِ حاجت کو تو وہ خوب تر ہے۔اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کر دے گا۔اور اللہ کو تمھارے سب کاموں کی خبر ہے۔‘‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ( صَدَقَۃُ السِّرِّ تُطْفِیئُ غَضَبَ الرَّبِّ ) ’’ خفیہ طور پر صدقہ اللہ تعالی کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔‘‘[2] اور صدقہ ایک ایسا عمل ہے جس کا اپنا بھی قیامت کے روز سایہ ہوگا۔ جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : (( کُلُّ امْرِیئٍ فِی ظِلِّ صَدَقَتِہٖ حَتّٰی یُقْضَی بَیْنَ النَّاسِ)) [3] ’’ لوگوں کے درمیان فیصلے ہونے تک ہر آدمی اپنے صدقے کے سائے تلے ہوگا۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ خفیہ طور پر صدقہ کرنے والا شخص اپنے صدقے کے سائے تلے بھی ہوگا اور اس کے علاوہ عرش باری تعالی کے سائے تلے جمع ہونے والے لوگوں میں بھی شامل ہو گا۔ 7۔عرش باری تعالی کا سایہ پانے والے خوش نصیب حضرات میں سے ساتویں قسم کے لوگ وہ ہوں گے جو خلوت میں اللہ تعالی کی عظمت وکبریائی، اس کی رحمت، اس کے عذاب اور اپنے گناہوں کو یاد کرکے اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس قسم کے لوگوں کا تذکرہ یوں کیا :(( وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ)) ’’اور وہ آدمی جس نے علیحدگی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔‘‘ جو لوگ اللہ تعالی کو یاد کرکے یا اس کا ذکر سن کر ڈر جاتے ہیں اور ان کے دلوں میں اللہ تعالی کا خوف پیدا ہو جاتا ہے، پھر وہ اللہ تعالی کے احکام کو بجا لانے میں کوئی سستی نہیں کرتے، تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالی نے سچے مومن قرار دیا ہے اور ان کیلئے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿ إِنَّمَا الْمُؤمِنُونَ الَّذِینَ إِذَا ذُکِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیمٰنًا وَّعَلَیٰ رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ ٭ الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلَاۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُونَ ٭ أُولٰئِکَ [1] البقرۃ2 :271 [2] السلسۃ الصحیحۃ للألبانی :1908 [3] صحیح الجامع الصغیر :4510