کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 29
اِصلاح معاشرہ کیسے ہو ؟ اہم عناصرِ خطبہ : 1۔اسلامی معاشرے کی خصوصیات 2۔معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح کا طریقۂ کار پہلا خطبہ محترم حضرات ! آج ہمارے معاشرے میں بہت ساری خرابیاں پائی جاتی ہیں۔بہت زیادہ اخلاقی بگاڑ پایا جاتا ہے۔اِس قدر فساد پایا جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ تباہی وبربادی کے کنارے پر جا پہنچا ہے۔اور آب سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کس قدر اخلاقی انحطاط کا شکار ہو چکے ہیں ! سوال یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو اس تباہی وبربادی سے کیسے بچا سکتے ہیں ؟ اور معاشرے کی تمام خرابیوں کی اصلاح کیسے ممکن ہے ؟ اِس کیلئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اِس امت کا اولین اسلامی معاشرہ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں تشکیل دیا تھا اس کی کیا خصوصیات تھیں کہ جن کی بناء پر وہ معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن گیا تھا۔کیونکہ یہ بات کسی بھی شخص سے مخفی نہیں ہے کہ کسی بھی اسلامی معاشرے کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشکیل کردہ پہلے اسلامی معاشرے کی خصوصیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی اصلاح نہ کرے۔ تو آئیے اختصار کے ساتھ ان خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہیں اور انہی کی روشنی میں اپنے معاشرے کی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پہلی خصوصیت :توحید باری تعالیٰ کا صدق دل سے اقرار اور شرک سے براء ت اور لاتعلقی اسلامی معاشرے کی پہلی اور سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں بسنے والے تمام مسلمان اکیلے اللہ تعالیٰ کو معبودِ برحق سمجھتے ہیں اور شرک سے براء ت اور لا تعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔یہی بات ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے معلوم ہوتی ہے۔چنانچہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے