کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 282
’’ وہ آدمی جس نے اس طرح خفیہ طور پر صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔‘‘ (( وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ)) ’’اور وہ آدمی جس نے علیحدگی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔‘‘[1] عزیز القدر بھائیو ! قیامت کا روز انتہائی ہولناک ہوگا۔اور اتنا طویل دن ہوگا کہ انسان اس کی لمبائی کا سن کر ہی دنگ رہ جاتا ہے اور اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالی نے اس کی لمبائی پچاس ہزار سال ذکر کی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِینَ اَلْفَ سَنَۃٍ ﴾[2] ’’ فرشتے اور جبریل امین اس کے پاس چڑھ کر جائیں گے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔‘‘ جی ہاں ! پچاس سال نہیں، پچاس ہزار سال !!! وہ دن اتنا لمبا اور اِس قدر ہولناک ہوگا کہ اس میں بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿فَکَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا ﴾[3] ’’اگر تم نے کفر کی راہ اختیار کی تو اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا۔‘‘ اُس دن سورج بہت ہی قریب ہوگا اور اس کی دھوپ کی شدت کی وجہ سے لوگ اپنے پسینوں میں ڈوب رہے ہوں گے۔ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے : (( تُدْنَی الشَّمْسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ الْخَلْقِ حَتّٰی تَکُوْنَ مِنْہُمْ کَمِقْدَارِ مِیْلٍ )) ’’ قیامت کے روز سورج کو مخلوق سے قریب کردیا جائے گا حتی کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر رہ جائے گا۔‘‘ [1] صحیح البخاری :660، صحیح مسلم :1031 [2] المعارج70 : 4 [3] المزمل73 :17