کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 276
’’ اے ایمان والو ! اللہ تعالی سے ڈرو اور اگر تم سچے مومن ہو توجو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو۔پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ تعالی اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کیلئے تیار ہو جاؤ۔‘‘ اگر کوئی شخص سود کی حرمت کا علم ہونے کے باوجود سودی لین دین جاری رکھے تو اسے یقین کر لینا چاہئے کہ اس کے معاشی حالات تباہی اور بربادی کی طرف جا رہے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ اس کو وقتی طور پر ایسا لگے کہ اس کی معاشی حالت بہت بہتر ہو رہی ہے، لیکن آخر کار اس کا انجام بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ﴾ [1] ’’ اللہ سود کو مٹاتا اور صدقوں کو بڑھاتا ہے۔‘‘ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : (( مَا أَحَدٌ أَکْثَرَ مِنَ الرِّبَا إِلَّا کَانَ عَاقِبَۃُ أَمْرِہٖ إِلٰی قِلَّۃٍ )) [2] ’’ کوئی شخص چاہے کتنا سودلے لے اس کا انجام آخر کار قلت اور خسارہ ہی ہو گا۔‘‘ سودی لین دین کرنے والے شخص کو اللہ تعالی سے ڈرنا چاہئے اور فوری طور پر توبہ کرکے اسے اِس حرام لین دین کو ترک کردینا چاہئے۔ورنہ وہ یہ بات یاد رکھے کہ جب تک وہ سودی لین دین کرتا رہے گا اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت اور پھٹکار پڑتی رہے گی۔ جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ(( لَعَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم آکِلَ الرِّبَا، وَمُوْکِلَہُ، وَکَاتِبَہُ، وَشَاہِدَیْہِ، وَقَالَ : ہُمْ سَوَائٌ [3])) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی سود کھانے والے پر، سود کھلانے والے پر، اس کے لکھنے والے پر، اس کے گواہوں پر۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ سب گناہ میں برابر ہیں۔‘‘ 5۔یتیم کا مال کھانا سات مہلک اور تباہ کن گناہوں میں سے پانچواں گناہ ہے: یتیم کا مال کھانا۔ اللہ تعالی نے یتیموں کے سرپرستوں کو ان کامال انھیں دینے کا حکم دیا ہے اور اسے خود کھانے سے منع فرمایا ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ﴿وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰٓی اَمْوَالَھُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ وَ لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓی اَمْوَالِکُمْ اِنَّہٗ کَانَ حُوْبًا کَبِیْرًا ﴾ [4] [1] البقرۃ2 :276 [2] سنن ابن ماجہ :2279۔وصححہ الألبانی [3] صحیح مسلم :1598 [4] النساء4 :2