کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 262
صبح کے وقت آپ سے قریب ہوا، ہم چل رہے تھے، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( أَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ وَیُبَاعِدُنِیْ مِنَ النَّارِ ) آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور جہنم سے دور کر دے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( لَقَدْ سَأَلْتَ عَظِیْمًا، وَإِنَّہُ لَیَسِیْرٌ عَلٰی مَن یَّسَّرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ، تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئاً، وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ، وَتُؤْتِی الزَّکَاۃَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَیْتَ ) ’’ تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے۔اور یقینا یہ عمل اس کیلئے آسان ہے جس کیلئے اللہ تعالی آسان کردے۔تم اللہ تعالی کی عبادت کرتے رہنا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، نماز پابندی سے پڑھتے رہنا، زکاۃ دیتے رہنا، رمضان کے روزے رکھتے رہنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( أَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی أَبْوَابِ الْخَیْرِ ؟ اَلصَّوْمُ جُنَّۃٌ،وَالصَّدَقَۃُ تُطْفِیُٔ الْخَطِیْئَۃَ کَمَا یُطْفِیُٔ النَّارَ الْمَائُ، وَصَلَاۃُ الرَّجُلِ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ ) ’’ کیا میں تمھیں خیر کے دروازے نہ بتاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے ہی مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے۔اور آدھی رات میں نمازتہجد ادا کرنا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : ﴿تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ……جَزَآئًم بِمَا کَانُوْایَعْمَلُوْنَ﴾[1] پھر فرمایا : ( أَ لَا أُخْبِرُکَ بِرَأْسِ الْأمْرِ وَعَمُوْدِہٖ وَذِرْوَۃِ سَنَامِہٖ ؟ الْجِہَادُ ) ’’ کیا میں تمھیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں ؟ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔‘‘ پھر فرمایا : ( أَ لَا أُخْبِرُکَ بِمِلَاکِ ذَلِکَ کُلِّہٖ ؟ ) ’’ کیا میں تمھیں وہ چیز نہ بتاؤں جس پر ان تمام باتوں کا دار ومدار ہے ؟ ‘‘ میں نے عرض کی : جی ہاں ضرور بتائیے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اورفرمایا : ( تَکُفُّ عَلَیْکَ ہٰذَا ) ’’ اسے اپنے قابو میں رکھنا۔‘‘ میں نے عرض کی : ( یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ! وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ ؟ ) اے اللہ کے نبی ! ہم جو کچھ بولتے ہیں کیا اس پر بھی ہماری پکڑ ہوگی ؟ [1] السجدۃ32 :16۔17