کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 244
یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَلَا یَعْلَمُ لِلّٰہِ فِیْہِ حَقًّا،فَہٰذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ )) ’’تیسرا وہ ہے جسے اللہ تعالی نے مال تو دیاہو لیکن اسے علم سے محروم رکھا ہو۔تو وہ اپنے مال کے سلسلے میں بغیر علم کے ٹامک ٹوئیاں مارتا ہو اور نہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہو اور نہ ہی صلہ رحمی کرتا ہو۔اور نہ ہی اس میں اللہ تعالی کے حق کو جانتا ہو۔تو یہ سب سے نچلے مرتبے میں ہے۔‘‘ ((وَعَبْدٌ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالًا وَلَا عِلْمًا، فَہُوَ یَقُولُ : لَوْ أَنَّ لِیْ مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، فَہُوَ نِیَّتُہُ فَوِزْرُہُمَا سَوَائٌ )) ’’اور چوتھا وہ ہے جسے اللہ تعالی نے نہ مال دیا ہو اور نہ علم۔تو وہ یہ کہے کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اُس ( تیسرے ) آدمی کی طرح عمل کرتا۔تو اِس آدمی کا گناہ اپنی نیت کے اعتبار سے اُس ( تیسرے ) آدمی کے گناہ کے برابر ہوا۔‘‘[1] ہم میں سے ہر شخص اپنے گریبان میں جھانک کر یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ ان چاروں افراد میں سے کونسا ہے ؟ اگر ہم پہلے دو قسم کے افراد میں سے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کریں۔اور اگر ہم آخری دو قسم کے افراد میں سے ہیں تو پھر ہم اپنی اصلاح کریں۔اور اللہ تعالی کا یہ فرمان ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں : ﴿ وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ زَھْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا لِنَفْتِنَھُمْ فِیْہِ وَ رِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی ﴾[2] ’’ اور آپ ان چیزوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائیے جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیوی زندگی کی زینت کیلئے دی ہیں تاکہ ہم انھیں ان چیزوں میں آزمائیں۔اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور دائمی ہے۔‘‘ اللہ تعالی ہمیں حق بات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ وآخر دعوانا أن الحمد للّٰه رب العالمین [1] جامع الترمذی : 2325۔وصححہ الألبانی [2] طہ20 : 131