کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 24
میں جائے گا۔اور جس شخص نے اللہ کی رضا کی خاطر ایک دن کا روزہ رکھا اور اسی حالت میں اس کا خاتمہ ہو گیا تو وہ بھی سیدھا جنت میں جائے گا۔اور جس شخص نے اللہ کی رضا کی خاطر صدقہ کیا اور اسی وقت اس کا خاتمہ ہو گیا تو وہ بھی سیدھا جنت میں جائے گا۔‘‘ 7۔اخلاص کے ذریعے دل پاک ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : (نَضَّرَ اللّٰہُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِیْ فَبَلَّغَہَا،فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ غَیْرُ فَقِیْہٍ،وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ إِلٰی مَنْ ہُوَ أَفْقَہُ مِنْہُ) ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوشی، بہجت وسرور اور آسودگی دے جس نے میری بات سنی ور اسے آگے پہنچا دیا، کیونکہ کئی علم لینے والے ( فقیہ ) سمجھ دار نہیں ہوتے اور کئی علم لینے والے اسے اپنے سے زیادہ سمجھ دار تک پہنچا دیتے ہیں۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا : ( ثَلاَثٌ لَا یَغِلُّ عَلَیْہِنَّ قَلْبُ مُؤْمِنٍ:إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلّٰہِ،وَالنَّصِیْحَۃُ لِوُلَاۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَلُزُوْمُ جَمَاعَتِہِمْ،فَإِنَّ دَعْوَتَہُمْ تُحِیْطُ مِنْ وَّرَائِہِمْ ) [1] ’’ اور تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی موجودگی میں مومن کے دل میں کینہ داخل نہیں ہوتا۔اللہ کیلئے عمل خالص کرنا، مسلمانوں کے سربراہوں سے خیرخواہی کرنااور ان کی جماعت میں بہر حال شامل رہنا۔کیونکہ ان کی دعوت ان سب کو محیط ہوتی ہے۔‘‘ (جیسے ایک دیوار ان کا احاطہ کرتی ہے اسی طرح ان کی دعوت’ جو کہ دعوتِ اسلام ہے ‘ بھی ان سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور انھیں فرقہ بندی سے محفوظ رکھتی ہے۔اس لئے ان کی جماعت کے ساتھ مل کر رہنا اشد ضروری ہے۔) 8۔اللہ کے عذاب سے نجات ارشاد باری ہے : ﴿ وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَہُمْ اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْنَ ٭ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْہِمْ مُنْذِرِیْنَ ٭ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ ٭ اِِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ﴾[2] ’’ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ بہک چکے ہیں۔جن میں ہم نے ڈرانے والے رسول بھیجے تھے۔لہٰذا آپ دیکھ لیں کہ جنھیں ڈرایا گیا تھا ان کا انجام کیا ہوا ! سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے۔‘‘ [1] سنن الترمذی : 2658 وصححہ الألبانی [2] الصافات37:71۔74