کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 235
جناب عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چٹائی کے نشانات پڑے ہوئے ہیں تو مجھے رونا آگیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : آپ کیوں روتے ہیں ؟ تو میں نے کہا : قیصر وکسری کے پاس کیا کیا نعمتیں ہیں اور آپ تو اللہ کے رسول ہیں ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (( أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُوْنَ لَہُمُ الدُّنْیَا وَلَنَا الْآخِرَۃُ )) [1] ’’ کیا آپ کو یہ بات پسند نہیں کہ ان کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت ؟ ‘‘ یہ واقعہ بھی اِس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے بے رخی کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں دنیا کی کوئی محبت نہ تھی۔ورنہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی آسائشوں کو مد نظر رکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی سے مانگ سکتے تھے اور اللہ تعالی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقینا تمام آسائشیں عطا بھی کردیتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مد نظر صرف آخرت تھی۔اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب عمر رضی اللہ عنہ کو یہی فرمایا کہ قیصر وکسری کیلئے دنیا کی آسائشیں جبکہ ہمارے لئے آخرت کی آسائشیں اور نعمتیں ہیں۔ آخرت کیلئے عمل کرنے کی اہمیت دنیا سے بے رغبتی کرتے ہوئے انسان کو آخرت کیلئے عمل کرنا چاہئے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور اس کی تمام آسائشیں اور لذتیں ختم ہونے والی ہیں۔جبکہ آخرت باقی رہنے والی ہے اور اس کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿ بَلْ تُؤثِرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ٭ وَالْآخِرَۃُ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی﴾[2] ’’ بلکہ تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔حالانکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘ اسی طرح فرمایا : ﴿ وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُھَا وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ﴾ [3] ’’ اور تمھیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ بس دنیوی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے۔اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر اور دائمی ہے۔کیا تم سوچتے نہیں ؟ ‘‘ اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : [1] صحیح البخاری :4913، وصحیح مسلم :1479 [2] الأعلی87 : 16۔17 [3] القصص28 :60