کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 228
کی سختیوں کو دیکھ لیں گے تو وہ ایسے سمجھیں گے کہ جیسے وہ دنیا میں صرف ایک گھڑی کیلئے رہے تھے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿ کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَہَا لَمْ یَلْبَثُوْآ اِِلَّا عَشِیَّۃً اَوْ ضُحٰہَا ﴾[1] ’’جب وہ اسے ( قیامت کو ) دیکھیں گے تو انھیں ایسے لگے گا کہ وہ گویا بس ایک پچھلا یا پہلا پہر ہی ( دنیا میں ) ٹھہرے تھے۔‘‘ اِس آیت مبارکہ میں دنیا کی عمر ایک پہر ذکر کی گئی ہے۔جبکہ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا : ﴿کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِِلَّا سَاعَۃً مِّنْ نَّہَارٍ ﴾[2] ’’ جس دن وہ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس سے انھیں ڈرایا جاتا ہے تو وہ سمجھیں گے جیسے ( دنیا میں ) بس ایک ساعت ہی ٹھہرے تھے۔‘‘ اسی طرح فرمایا : ﴿وَ یَوْمَ یَحْشُرُھُمْ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّھَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَھُمْ ﴾[3] ’’ اور جس دن اللہ انھیں جمع کرے گا تو انھیں ایسے لگے گا جیسے وہ ( دنیا میں ) دن کی ایک گھڑی رہے ہوں۔اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے کو ٹھہرے ہوں۔‘‘ ان آیات سے ثابت ہوا کہ دنیا کی عمر، چاہے ہزاروں سال کیوں نہ ہو، آخرت کے مقابلے میں ایک گھڑی کے برابر ہے۔لہٰذا میرے بھائیو ! اِس ایک گھڑی کو اللہ کی اطاعت میں گزار لو۔پھر آخرت میں اللہ کی نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی۔ 2۔حدیث کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ انگلی پہ لگا ہوا پانی دنیا ہے اور باقی پانی جو سمندر میں ہے وہ آخرت ہے۔یعنی دنیا آخرت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔اور آخرت دنیا کے مقابلے میں بہت زیادہ اور اُس سے کہیں بہتر ہے۔اتنی زیادہ اور اتنی بہتر ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اور اِس بات کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آخرت میں اہل ایمان کو جو جنت نصیب ہوگی اس کی صرف چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿وَ سَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ جَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ ﴾[4] ’’ اور اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف دوڑ کر چلو جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔اسے [1] النازعات79 :46 [2] الأحقاف46 :35 [3] یونس10 :45 [4] آل عمران3 :133