کتاب: زاد الخطیب جلد چہارم - صفحہ 226
طریقہ سے مباحثہ کیجئے جو بہترین ہو۔‘‘ اس آیت مبارکہ میں غور کیجئے کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے دعوت کا نصاب بیان کیا ہے اور وہ ہے : ﴿سَبِیْلِ رَبِّک ﴾یعنی ’’آپ کے رب کا راستہ ‘‘ اور رب کے راستے سے مراد قرآن وسنت ہے۔لہذا تمام دعاۃ پر یہ بات فرض ہے کہ وہ صرف اور صرف کتاب وسنت کی طرف ہی لوگوں کو دعوت دیں۔ اس کے بعد دعوت کا اسلوب اور انداز بیان کیا ہے۔اور وہ ہے حکمت اور عمدہ نصیحت۔لہذا تمام دعاۃ کو اپنی دعوت میں اسی اسلوب کو اختیار کرنا چاہئے۔ایسا اسلوب اور انداز اختیار کریں کہ جس میں محبت وپیار اور مدعوین کیلئے خیرخواہی کا سچا جذبہ ہو۔اور اگر مخالفین سے تکرار ومباحثہ کرنا پڑے تو اس کیلئے بھی بہترین طریقہ اختیار کریں۔سختی، تشدد اور طعن وتشنیع سے پرہیز کریں، تاکہ ان کی دعوت کا اپنوں پر بھی اچھا اثر ہو اور مخالفوں پر بھی۔ 16۔فتوی وہ شخص دے جس کے پاس قرآن وحدیث کا علم ہو کیونکہ جس کے پاس قرآن وحدیث کا علم نہ ہو اور لوگ اس سے فتوی پوچھیں تو وہ بغیر علم کے فتوی دے کر خود بھی گمراہ ہو گا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (( إِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلٰکِن یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ، حَتّٰی إِذَا لَمْ یُبْقِ عَالِمًا، اِتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُسًا جُہَّالًا،فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَأَضَلُّوْا)) [1] ’’ اللہ تعالی علم کو اِس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں (کے دلوں) سے کھینچ لے، بلکہ وہ علماء کی ارواح کو قبض کرکے علم کو اٹھائے گا۔یہاں تک کہ جب کسی عالم کو باقی نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو مفتی بنا لیں گے۔چنانچہ ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے، اِس طرح وہ خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘ آخر میں ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم سب کو ان تمام اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین۔ وآخر دعوانا أن الحمدللّٰه رب العالمین [1] صحیح البخاری : 100، صحیح مسلم : 2673